اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی مالیاتی وعدوں کو پورا کرے گا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول نہ کیا تو ڈیفالٹ کر جائیں گے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے خسارے کے چار بجٹ دئیے ہیں، رواں سال پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ امیر افراد پر سپر ٹیکس لگایا ہے تو اتنی پریشانی کیوں ہے؟ انہوں نے استفسار کیا کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا تو حکومت کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ وزیراعظم کے بیٹوں کی فیکٹریوں پر سپر ٹیکس لگایا گیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں نے اپنے کاروبار پر بھی بہت زیادہ ٹیکس لگایا، امیروں کو آگے آ کر قربانی دینا ہو گی، رواں سال پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8. 6فیصد ہو گا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دنیا میں کم ترین تناسب میں سے ایک ہے، رواں سال پاکستان کا پرائمری خسارہ تقریباً 1600ارب روپے ہو گا۔
After 4 record budget deficits under PTI I am not going to run another ruinous deficit. This year, after 4 years of PTI, we will have the highest trade deficit. I must contain this unsustainable current account deficit. The alternate is default. The 3 highest CADs in history 5/n
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) June 26, 2022









