بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت کی ایک اور آبی جارحیت، دریائے ستلج کے بند ٹوٹنے سے متعدد علاقے زیر آب

 بھارت کی جانب سے دریاؤں میں بغیر پیشگی اطلاع پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس نے نہ صرف درجنوں دیہاتوں کو زیر آب کر دیا بلکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بھی تباہ کر دی۔
دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب کے کئی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔
سیلاب کی شدت اور متاثرہ علاقے
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا ریلا گزر رہا ہے۔ دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں گنڈا سنگھ کے آس پاس 50 سے زائد دیہات ڈوب چکے ہیں۔
اوکاڑہ، بورے والا، بہاولنگر، منچن آباد، بابا فرید پل، بھوکاں پتن، عارف والا، اور چشتیاں جیسے علاقوں میں حفاظتی بند پانی کے دباؤ کے باعث ٹوٹ چکے ہیں۔ چنیوٹ کے قریب دریائے چناب میں 1 لاکھ 10 ہزار کیوسک کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر سیلابی ریلا داخل ہونے کے بعد سرحدی دیہات میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آبادی اور فصلیں متاثر
متعدد بستیاں — خصوصاً چیچہ وطنی، عارف والا، فاروق آباد، اور جملیرا — سیلابی پانی میں ڈوب چکی ہیں، جبکہ بھاری مقدار میں کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ خیرپور ڈاہا پل اور احمد پور شرقیہ کے کئی حفاظتی بند بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں

این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی اس وقت 86 فیصد بھر چکا ہے، جس کے باعث سیالکوٹ، نارووال اور قصور کے نشیبی علاقے شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے اور پاکپتن سے 1400 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں بھی صورتحال سنگین

ادھر خیبرپختونخوا میں مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق اب تک 406 افراد جاں بحق جبکہ 245 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق:
574 مکانات مکمل تباہ
2136  جزوی متاثر
5916 مویشی ہلاک
18 اسکول مکمل تباہ، 306 کو نقصان
متاثرہ اضلاع: سوات، بونیر، مردان، اپر کوہستان، باجوڑ، چارسدہ، نوشہرہ، لکی مروت، کرم، ٹانک، ہری پور اور دیگر
بجلی کا نظام درہم برہم
سیلاب کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں بجلی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پیسکو کے مطابق:
292 ٹرانسفارمرز متاثر
49 فیڈرز کو نقصان
2 لاکھ 12 ہزار صارفین بجلی سے محروم
16 کروڑ 42 لاکھ روپے کا مالی نقصان
سب سے زیادہ نقصان سوات میں ریکارڈ کیا گیا: 5 کروڑ 36 لاکھ روپے
پیسکو کی 10 تکنیکی ٹیمیں 87 اہلکاروں کے ساتھ بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم شانگلہ، سوات اور بونیر جیسے علاقوں میں ہزاروں افراد تاحال بجلی سے محروم ہیں۔