سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بہن علیمہ خان نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ ان کے بھائی کے لیے ایک آزاد اور مکمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
یہ درخواست انسداد دہشت گردی عدالت میں معروف وکلا فیصل ملک ایڈووکیٹ، خالد یوسف چوہدری اور تابش فاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے جمع کرائی گئی۔
آنکھوں میں دباؤ اور دھندلا پن، طبی معائنے کی ضرورت
درخواست میں بتایا گیا کہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے آنکھوں میں شدید دباؤ، دھندلا دیکھنے اور دیگر طبی مسائل کی شکایت کی۔
یاد رہے کہ 73 سالہ عمران خان گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے قید میں ہیں اور ان کا آخری باقاعدہ میڈیکل چیک اپ 4 نومبر 2024ء کو ہوا تھا۔
درخواست کے مطابق، کئی مرتبہ طبی معائنے کی درخواستیں دی گئیں، مگر ابھی تک کوئی تفصیلی معائنہ نہیں کرایا گیا، جو ان کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
آزاد میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ
درخواست گزاروں نے سرکاری ڈاکٹرز پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ:
عمران خان کے ذاتی معالجین کو میڈیکل بورڈ کا حصہ بنایا جائے۔
اس مقصد کے لیے شوکت خانم اسپتال کے فزیشن ڈاکٹر فیصل سلطان اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے ماہر امراض چشم پروفیسر فواد احمد خان کو شامل کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کو قیدی کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور کئی مرتبہ قیدِ تنہائی میں بھی رکھا گیا ہے، جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
عدالت کا ردعمل
سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، جس میں وکلا فیصل ملک، خالد یوسف اور تابش فاروق عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ کیس کی آئندہ سماعت 29 اگست کو مقرر ہے۔









