بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

29 اگست سے 2 ستمبر تک مزید بارشیں متوقع، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ 

محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کر دی ، جو 29 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ عوام کو ممکنہ سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے سے متعلق ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
کہاں کہاں بارش ہوگی؟
محکمہ موسمیات کے مطابق، بارشوں کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہوگا، خاص طور پر  کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش متوقع ہے، جہاں پہاڑی ڈھلوانوں پر لینڈ سلائیڈنگ  کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقوں: چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، پشاور، مردان، بنوں، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔
پنجاب میں:   راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، خوشاب اور سرگودھا جیسے علاقوں میں موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
سندھ کے اضلاع: مٹھی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، دادو، اور جیکب آباد میں بھی بادل برسنے کے امکانات ہیں۔
بلوچستان  کے علاقوں: بارکھان، لورالائی، ژوب، قلات، سبی، خضدار اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
کیا خطرات ہیں؟
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نشیبی علاقے بارش کے باعث **زیرِ آب آ سکتے ہیں۔
پہاڑی علاقوں میں بارش کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جس سے آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
شدید بارشوں کے دوران چھوٹے نالوں اور دریاؤں میں طغیانی بھی متوقع ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی کی سطح بلند ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں، مسافروں، اور متعلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں۔ نشیبی علاقوں کے مکین الرٹ رہیں، اور ممکن ہو تو محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے فوری ردعمل کے لیے تیاری رکھیں۔