چین نے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق امریکا اور روس کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات میں شریک ہونے کی تجویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ چین کو بھی ایٹمی تخفیفِ اسلحہ سے متعلق مذاکرات میں شامل کیا جائے، مگر بیجنگ نے اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکا اور روس کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اور انہی پر عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ کی اصل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اپنی ایٹمی صلاحیت کو محض قومی دفاع کے لیے ضروری حد تک محدود رکھتا ہے اور کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔
ادھر شمالی کوریا نے بھی جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے امریکا میں دیے گئے بیان پر شدید ردِعمل دیا ہے۔ شمالی کوریا نے صدر کو “منافق” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی اپنے ایٹمی ہتھیار ترک نہیں کرے گا کیونکہ یہ ان کی ریاستی خودمختاری اور وقار کی علامت ہیں۔
یاد رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے دو ممالک امریکا اور روس ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق، امریکا کے پاس تقریباً 3,700 اور روس کے پاس 4,300 سے زائد ایٹمی وارہیڈز ہیں، جبکہ چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد تقریباً 500 کے قریب بتائی جاتی ہے۔
چین کا مؤقف عالمی سطح پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایٹمی تخفیفِ اسلحہ کی اصل ذمہ داری بڑی طاقتوں پر ہے، جو خود سب سے زیادہ ہتھیار رکھتے ہیں۔
ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ،چین کا امریکا اور روس کے ساتھ بیٹھنے سے انکار








