رباط (نیوز ڈیسک)مراکش کئی دہائیوں کی بدترین خشک سالی سے دوچار ہے جس کے بعد حکومت نے پانی کے بخارات کو کم کرنے اور سبز توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک منفرد منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس پائلٹ منصوبے کے تحت آبی ذخائر پر تیرتے ہوئے شمسی پینلز نصب کیے جا رہے ہیں۔
شمالی شہر طنجہ کے قریب ایک بڑے ذخیرہ آب پر ہزاروں “فلوٹو وولٹائک” پینلز لگائے گئے ہیں۔ یہ پینلز ایک جانب سورج کی شعاعوں سے بجلی پیدا کرتے ہیں تو دوسری جانب پانی کو براہِ راست جھلسا دینے والی دھوپ سے بچاتے ہیں۔ حکام کے مطابق پیدا ہونے والی توانائی قریبی تنجر میڈ بندرگاہی کمپلیکس کو فراہم کی جائے گی۔ اگر منصوبہ کامیاب ہوا تو اس ٹیکنالوجی کے ملک بھر میں دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2022 سے ستمبر 2023 کے دوران ملک کے ذخائر سے روزانہ 600 سے زائد اولمپک سائز کے سوئمنگ پول کے برابر پانی بخارات بن کر ضائع ہوا۔ اسی عرصے میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 1.8 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوا، جس نے بخارات کی رفتار تیز کر دی۔ بارش میں کمی اور دیگر عوامل کے باعث ڈیم اپنی گنجائش کے صرف ایک تہائی تک محدود رہ گئے۔
وزارتِ پانی کے اہلکار یاسین وحبی کے مطابق صرف طنجہ کا ذخیرہ آب روزانہ تقریباً 3 ہزار مکعب میٹر پانی کھو دیتا ہے، جبکہ گرمیوں میں یہ مقدار دوگنی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیرتے ہوئے شمسی پینلز پانی کے بخارات کو تقریباً 30 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔
وزارتِ پانی نے اس منصوبے کو پانی کے تیزی سے کم ہوتے وسائل کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ فی الحال بخارات کی بچت کی شرح محدود ہے لیکن یہ اقدام آئندہ برسوں میں خشک سالی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔









