چین کی جانب سے سولر پینلز پر دی جانے والی اگزامپشن (ایکسپورٹ ریبیٹ) کو مکمل ختم کرنے کا امکان ہے، جس سے پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدی لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
دیوان انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر، فاض دیوان نے بتایا کہ موجودہ وقت میں یہ ریبیٹ 9 فیصد سے کم ہو کر صفر فیصد تک آ سکتا ہے—ممکنہ طور پر یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اگر یہ حقیقت بن جاتا ہے، تو پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ متوقع ہے ،مثال کے طور پر ایک 585 واٹ سولر پینل کی موجودہ قیمت 17,500 سے 19,100 روپے کے درمیان ہے۔ ریبیٹ ختم ہونے کی صورت میں اس کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ متوقع ہے
درآمدات میں مشکلات اور مارکیٹ کی صورتحال
وفاقی شہروں میں حالیہ سیلابی صورتحال نے پہلے ہی سولر پینلز کی فروخت کو متاثر کیا ہے، جس سے درآمد کنندگان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ تقریباً ہر ماہ 2,500 کنٹینرز درآمد کیے جاتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی لاگت 1 کروڑ روپے ہے
ڈر ہے کہ اگر کنسائنمنٹس کسٹمز پر رہ جائیں، تو اضافی چارجز بھی عائد ہو سکتے ہیں، جس کے سبب کاروباری افراد اسٹاک کو نقصاناً فروخت کر رہے ہیں
انوریکس کے سی ای او، محمد زاکر علی نے کہا کہ اگر ریبیٹ ختم ہو گیا تو سولر پینلز کے 16 پینلز پر مشتمل سیٹ کی قیمت پاکستان میں تقریباً 9 فیصد بڑھ جائے گی
مارکیٹ کا تناظر: طلب میں کمی، رسد میں اضافہ
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین آفاق علی خان بتاتے ہیں کہ مارکیٹ شدید کساد بازاری کا شکار ہے، جہاں طلب میں کمی اور رسد میں اضافہ ہوا ہے جو قیمتوں پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
زرعی علاقوں میں لوگوں کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث وہ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے۔ شہری مارکٹ میں جگہ محدود ہونے کے باوجود، دیہی مارکیٹس میں فی الحال کافی صلاحیت باقی ہے
پاکستان نے 2024 میں 17 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے اور 2025 کے پہلے ششماہی میں اسی رفتار کے تسلسل میں 12 گیگاواٹ درآمد ہو چکے ہیں
ابتدائی طور پر اپریل تک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی، لیکن اس کے بعد حالیہ صورتحال نے منفی اثر چھوڑا ہے۔ ذیلی طور پر، جی ایس ٹی کا نفاذ بھی مارکیٹ میں ایک بڑی وجہ رہی ہے
آفاق علی خان نے امید ظاہر کی کہ مارکیٹ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بحالی کی جانب بڑھے گی
چین کی ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی سے پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں 10 فیصدتک اضافہ متوقع








