لاہور(نیوز ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت جیسے لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں استعمال کر کے چھوڑ دیتی ہیں، بعد میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو ان کا یہی حال ہوتا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ جج نے بچوں کی ضمانت منظور کی جو خوش آئند ہے لیکن جس طریقے سے انہیں اٹھایا گیا وہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چاہیں تو پوری فیملی کو اٹھا لیں، وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
علیمہ خان نے عدلیہ اور مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے ملٹری ٹرائل کا کیا ہوا، جبکہ ہمارے بزرگوں کے خفیہ ٹرائل کیے گئے اور کارکنان کو سزائیں سنائی گئیں۔ حسان خان نیازی کو اپیل کا حق تک نہیں دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کی اپیل نہیں سنی اور اس کے بدلے انہیں مستقل چیف جسٹس بنا دیا گیا، لیکن کل کو ان سب کو جواب دینا ہوگا۔
شیر افضل مروت کے الزام پر کہ بیرون ملک سوشل میڈیا اکاؤنٹس علیمہ کے بیٹے چلاتے ہیں، علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے مروت کو پہلے ہی پارٹی سے نکال دیا ہے، اب وہ چاہیں تو کسی اور پارٹی میں شامل ہو جائیں۔









