فلسطین کے چیف جسٹس ڈاکٹر محمود صدقی عبد الرحمان الہباش کی قیادت میں ایک چار رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں امام مسجد اقصیٰ اور امام مسجد ابراہیمی سمیت دیگر ممتاز مذہبی شخصیات بھی شریک تھیں۔ یہ ملاقات وفاقی دارالحکومت میں ہوئی، جہاں دونوں فریقین نے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
فلسطینی وفد نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور متاثرہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی ظاہر کی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے فلسطینی کاز کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی حمایت دین، نسل، مسلک یا ثقافت سے بالاتر ہو کر ایک انسانی اور اخلاقی فرض ہے۔
انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ہر سطح پر فلسطین کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امدادی سامان روانہ کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی چیف جسٹس ڈاکٹر محمود الہباش نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عملی حمایت دی بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی مظلوموں کی آواز بھی بلند کی، جس کے ہم دل سے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد وہ دن آئے گا جب کئی ممالک فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے اور عالم اسلام کے قائدین مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔”
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان علمائے کرام کے تبادلے، بین المذاہب مکالمے کے فروغ اور دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ ملاقات فلسطین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی گہرائی اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا عملی مظہر تھی۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف سے فلسطینی چیف جسٹس اور امام مسجد اقصیٰ کی اہم ملاقات








