چین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو دوسری جنگِ عظیم کی 80ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات میں شرکت کی دعوت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تند و تیز پوسٹ میں چینی صدر شی جن پنگ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میری طرف سے پیوٹن اور کم جونگ اُن کو گرم جوشی سے سلام کہہ دیجیے، جب آپ امریکا کے خلاف سازش میں مصروف ہوں۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے واضح کیا کہ پیوٹن اور کم کو مدعو کرنے کا مقصد “امن دوست اقوام کے ساتھ مل کر تاریخ کو یاد کرنا، شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور مشترکہ مستقبل کے لیے کام کرنا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
ترجمان گو جیاکن نے کہا کہ چین کے دنیا کے ممالک سے تعلقات کی بنیاد تعاون اور احترام پر ہے، اور چین کی خارجہ پالیسی محاذ آرائی کے بجائے شراکت داری پر یقین رکھتی ہے۔
دوسری جانب، یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجا کالاس نے دعویٰ کیا کہ پیوٹن، کم جونگ اُن اور شی جن پنگ کا ایک ساتھ آنا “مغرب مخالف نئے عالمی نظام کی تشکیل” کا عندیہ ہے، جو موجودہ عالمی اصولوں کے لیے خطرہ ہے۔
اس پر چین نے زیادہ سخت مؤقف اپنایا۔ گو جیاکن نے کاجا کالاس کے بیان کو “نظریاتی تعصب سے بھرا ہوا، تاریخی شعور سے خالی اور اشتعال انگیز” قرار دیا۔
کے مینڈک نہ بنیں” چینی ترجمان نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ بعض یورپی رہنما تعصب اور تکبر کو ترک کریں گے، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جو دنیا میں تناؤ کے بجائے امن اور تعاون کو فروغ دیں۔
چین کی شمالی کوریا اور روس کے ساتھ ملکر امریکا کےخلاف سازش کی تردید








