غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الاسکا میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں یوکرین جنگ کے خاتمے پرافہام و تفہیم حاصل کر لی ہے۔ تاہم، انہوں نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں پیوٹن نے مغرب کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بحران نیٹو کی توسیع اور مغربی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، وہ امید کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے امن کی راہ ہموار ہوگی۔
امریکی خصوصی ایلچی نے بتایا کہ پیوٹن یوکرین کے لیے حفاظتی ضمانتوں پر مشروط آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم ماسکو نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ ادھر ٹرمپ نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو امن معاہدے سے خارج رکھنے کی بات کی ہے۔
دوسری جانب زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں نے روسی بفر زون کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے ماسکو پر عدم سنجیدگی کا الزام عائد کیا ہے۔ تازہ روسی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک ہوئے، جس پر مغربی ممالک نے سخت ردعمل دیا ہے۔
جبکہپیوٹن کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ یوکرین جنگ کے خاتمے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، مگر عملی اقدامات اور زیلنسکی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات تاحال غیر واضح ہیں۔ روسی حملے جاری ہیں، جب کہ مغربی ممالک امن معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔









