بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنگلہ دیش میں ایک صدی پرانا خزانہ کھولنے کا فیصلہ

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کی حکومت نے ایک ایسا بینک والٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جو 115 سال سے بند ہے اور جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں دنیا کے نایاب ترین نوادرات اور قیمتی ہیروں میں شامل دریائے نور بھی موجود ہے۔

یہ والٹ 1908 میں ڈھاکا کے نواب خاندان نے مالی مشکلات کے باعث ضمانت کے طور پر بینک میں جمع کرایا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس میں 108 قیمتی نوادرات شامل تھے، جن میں سونے اور چاندی کی ہیرے جڑی تلوار، قیمتی پتھروں سے مزین ٹوپی اور ایک نایاب بروچ بھی ہے جو ماضی میں ایک فرانسیسی ملکہ کے پاس رہا تھا۔

دریائے نور ہیرہ

نواب خاندان کے موجودہ وارث خواجہ نعیم مراد—جو کبھی فلمی اداکار کے طور پر بھی شہرت رکھتے تھے—کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی پرامید ہیں کہ خزانہ اپنی اصل حالت میں موجود ہوگا۔ ان کے مطابق دریائے نور ایک مستطیل شکل کا نایاب ہیرہ تھا جس کے گرد کئی چھوٹے ہیرے جڑے تھے۔ یہ ہیرہ دنیا کے مشہور ترین کوہِ نور کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔

نواب سلیم اللہ کا رہن شدہ خزانہ

تاریخی دستاویزات کے مطابق یہ خزانہ نواب سلیم اللہ بہادر نے برطانوی دور میں مالی دباؤ کے باعث رہن رکھا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے کبھی یہ واضح نہ ہوسکا کہ والٹ کھولا گیا یا اس میں پڑی اشیاء اپنی جگہ موجود ہیں۔ بینک حکام کا کہنا ہے کہ اب تک صرف والٹ کا بیرونی دروازہ کھولا گیا ہے، اصل تجوری کو ابھی تک نہیں چھیڑا گیا۔

اربوں ڈالر کی مالیت کا امکان

ماہرین آثار قدیمہ اور جواہرات کے مطابق اگر یہ خزانہ اپنی اصل حالت میں دریافت ہوا تو اس کی موجودہ مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔