برطانیہ میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے 890 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ لندن میں ہونے والے اس مظاہرے کا مرکزی مطالبہ ‘فلسطین ایکشن’ تنظیم پر عائد پابندی کو ختم کرنا تھا۔
برطانوی پولیس کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں سے 857 افراد کو صرف اس تنظیم کی حمایت کرنے کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا، جب کہ باقی 33 افراد کو مختلف نوعیت کے جرائم میں گرفتار کیا گیا، جن میں سے 17 پر پولیس اہلکاروں پر حملے کا الزام ہے۔
مظاہرے سے پہلے وارننگ جاری کی گئی تھی
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے سے قبل ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ اگر کوئی بھی فرد ’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت کرتا پایا گیا تو اسے گرفتار کیا جائے گا۔ حکام کا موقف تھا کہ یہ تنظیم اب قانون کے تحت ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
یاد رہے کہ ’فلسطین ایکشن‘ نامی گروپ نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو عسکری مدد فراہم کرنے کے خلاف شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ جولائی میں اس گروپ کے چند اراکین نے رائل ایئر فورس کے ایک فوجی اڈے میں گھس کر طیاروں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت نے تنظیم پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کر دی۔
شہریوں کا ردعمل
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ فلسطین ایکشن ایک سیاسی مزاحمتی تنظیم ہے، اور اس پر پابندی لگانا آزادی اظہار پر قدغن کے مترادف ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، جہاں حکومت پر دوہرا معیار اپنانے اور سیاسی اختلاف کو دبانے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
فلسطین کے حق میں احتجاج، لندن میں 890 افراد گرفتار








