وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورہ بیجنگ کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سیکٹر میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارت آئی ٹی اور ذیلی اداروں نے چینی کمپنیوں کے ساتھ 10 معاہدے کر لیے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چینی وزارت صنعت و آئی ٹی کے درمیان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون پر معاہدہ ہوا۔ علی بابا کے ساتھ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ای کامرس ٹریننگ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ہواوے کے ساتھ ملک بھر میں کنیکٹیویٹی کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک تیار کیا گیا۔
یہ معاہدے پاک-چین بزنس کانفرنس کے دوران طے پائے۔ ان کے ذریعے پاکستان کی بزنس ٹو بزنس ایکسپورٹ مارکیٹ کو 10 گنا بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی شزا فاطمہ نے بتایا کہ پاکستان اپنی پہلی فل اسٹیک اے آئی کلاؤڈ لانچ کرے گا۔ زیڈ ٹی ای ایک لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی تربیت دے گا اور اسلام آباد میں گلوبل آئی سی ٹی ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی بابا، پاکستان کو اوپن سورس لینگویج ماڈل فراہم کرے گا۔ اے آئی پر مبنی بیماریوں کی تشخیص کے سلوشنز بھی پاکستان لائے جائیں گے۔ چینی کمپنیوں کے تعاون سے اسلام آباد کے اسکولوں میں اے آئی ٹولز متعارف کرانے اور نیشنل فائبر بیک ہال نیٹ ورکس و سب میرین کیبل انفرااسٹرکچر کی ترقی پر بھی معاہدے ہوئے ہیں۔









