اسلام آباد (نیوز رپورٹر) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے نیپال کی موجودہ عوامی تحریک کو خطے کے حکمرانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا۔ اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ نیپال میں کرپشن، سوشل میڈیا پر پابندی اور سیاسی اشرافیہ کی عیش و عشرت کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں اُبھرنے والی تحریک نے پرتشدد صورت اختیار کر لی ہے۔
شدید عوامی دباؤ کے باعث وزیراعظم پی شرما اولی اور وزیر داخلہ رامیش کھک مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ مظاہرین نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور نیپالی کانگریس کے دفاتر کو نذر آتش کر دیا۔ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 21 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ ملک بھر میں لوٹ مار اور بدامنی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ مظاہرین’’Gen Z تحریک‘‘ کے نام سے جانے جا رہے ہیں اور پارلیمنٹ تحلیل، نئے انتخابات اور کرپٹ حکام کے خلاف کارروائی جیسے مطالبات پر قائم ہیں۔ مظاہرین کے ابتدائی مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، مگر وہ مکمل عملدرآمد تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیپال میں پیدا ہونے والی صورتحال سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے عوامی ردعمل کی کڑی ہے، جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔ہمارے حکمران طبقے کو عوامی جذبات کا ادراک کر کے بروقت اصلاحات کرنی چاہئیں تاکہ کسی تباہ کن صورتحال سے بچا جا سکے۔
نیپال میں نوجوانوں کی تحریک شدت اختیار کر گئی، حکمرانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی، سینیٹر محمد عبدالقادر








