دوحہ/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر 9 ستمبر کو کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسے قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یورپی وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائی امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ وہ قطر کی ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں قحط کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، جبکہ اہم فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یاد رہے کہ منگل کے روز دوحہ میں ایک عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام سے خوش نہیں ہیں۔
ادھر قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ صدر ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں اسرائیلی حملے اور غزہ میں جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔
قطری وزیراعظم کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں سیکیورٹی معاہدے سمیت دوطرفہ تعاون پر گفتگو کی گئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی قطری وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔









