سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے نظرثانی بورڈ نے سزا مکمل کرنے والے غیر ملکی قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا، ساتھ ہی انہیں جلد از جلد ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے 33 غیر ملکی قیدیوں میں 29 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں۔ ان پر غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے اور اسمگلنگ جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ قیدیوں کا تعلق بھارت، افریقہ، کینیا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ہوم سیکرٹری، جیل حکام، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت متعلقہ افسران بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ جن غیر ملکی قیدیوں نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے، انہیں مزید قید میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ ان قیدیوں کی واپسی کے لیے متعلقہ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جائے تاکہ انہیں جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجا جا سکے۔
مزید برآں، نظرثانی بورڈ نے جیلوں میں موجود غیر ملکی قیدیوں کو معیاری خوراک اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا، تاکہ ان کے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سپریم کورٹ: غیر ملکی قیدیوں کی رہائی کا حکم








