اگر آپ شادی کی پلاننگ کر رہے ہیں تو یہ خبر آپ کو مالی طور پر چوکنا کر سکتی ہے، کیونکہ موجودہ مالی سال میں شادی کی تقریبات پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایف بی آر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں شادیوں پرودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس سال شادیوں سے2 ارب 2 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے، جب کہ گزشتہ سال یہی وصولی 1 ارب 70 کروڑ روپے تھی — یعنی 50 کروڑ روپے کا اضافہ۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ شادیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی اور بڑے شہروں میں ہونے والی تقریبات کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں شادی ہالز، مارکیز، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کلبز اور کمیونٹی سینٹرز سےایڈوانس ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اس میں کھانے پینے، سجاوٹ، روشنیوں اور دیگر متعلقہ خدمات کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔
ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق اگر آپ ٹیکس فائلر ہیں، تو آپ پر10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے جبکہ نان فائلرز کو اب 20 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا، جو خاصا بھاری ہے۔
تاہم فائلرز کے لیے ایک سہولت یہ ہے کہ شادی پر دیا گیا یہ ٹیکس ان کی سالانہ ٹیکس ذمہ داری کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شادیوں جیسے بڑے مگر اکثرغیردستاویزی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے تاکہ معیشت کو بہتر طریقے سے ریگولرائز کیا جا سکے۔
شادی کی تیاری کرنے والوں کے لیے بری خبر — ٹیکس مزید بڑھ گیا!








