مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’’قابلِ اعتماد اطلاعات‘‘ موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق حماس جلدی سے شہریوں کے خلاف کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو موجودہ جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلافِ ورزی ہوگی۔
حماس نے اس الزام کو’’اسرائیلی پروپیگینڈا‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ الزام بنیاد بنا کر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو چھپانے کے لیے ہے۔
امریکی بیان کے مطابق اگر حماس نے یہ کارروائی کی تو مداخلت یا حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
جنگ بندی کے باوجود صورتِ حال نازک ہے، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حماس نے جنوبی غزہ، خاص طور پر رفح کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں پر اینٹی ٹینک میزائل اور گن فائر کا حملہ کیا ہے، جس پر فوراً فضائی حملے کیے گئے۔
حماس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، کہتی ہے کہ وہ اس علاقے میں سرگرمی سے بخوبی رابطے میں نہیں تھی۔
اسرائیل نے اسے’’بغیر اجازت جنگ بندی کی واضح خلافِ ورزی‘‘ کہا ہے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک ایمرجنسی سکیورٹی میٹنگ طلب کی ہے۔
دوسری طرف، غزہ کی میڈیا اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے47مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں 38فلسطینی ہلاک اور 143زخمی ہوئے۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور معاہدے کے ضامن ممالک کارروائی کریں۔
جنگ بندی معاہدہ تو عمل میں ہے، مگر عملی سطح پر بہت زیادہ کشیدگی برقرار ہے،دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلافِ ورزی کے الزامات لگ رہے ہیں۔
انسانی اور ہمدردی کا پہلو سنگین ہے، غزہ میں امداد کا بحران، تباہی، لاوارث لاشیں، اور ان کی بازیابی کے چیلنجز سامنے ہیں۔
معاملے کی نازکیت کو دیکھتے ہوئے، ثالث ممالک اور بین الاقوامی برادری کی مداخلت اور نگرانی ضروری ہے۔
غزہ میں مزید 38فلسطینی ہلاک اور 143زخمی








