ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی قیادت جنگ بندی کی خلاف ورزی میں ملوث نظر نہیں آتی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو سیز فائر معاہدہ ہوا تھا، وہ اب بھی قائم ہے، تاہم بعض واقعات کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا’’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسرائیلی حملے جائز تھے یا نہیں، مجھے مزید معلومات لینا ہوں گی۔‘‘
دوسری طرف، سیز فائر کے باوجود اتوار کے روز غزہ میںایک مرتبہ پھر تشدد بھڑک اٹھا۔ حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ کے بعد اسرائیلی فورسز نے غزہ پر فضائی حملے کیے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایک کارروائی میں ان کے دو فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد جوابی کارروائی میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔فلسطینی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔
حملوں کے بعد فریقین نے ایک بار پھر سیز فائر کی شروعات کر دی ہے، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
امریکی صدر کا بیان:حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی میں ملوث نہیں








