بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب نے نصاب سے گریٹر اسرائیل کا سبق ختم کردیا

سعودی عرب نے اسکول کے نصاب سے وہ سبق خارج کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے دریائے نیل سے دریائے فرات تک اپنی حدود پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ تبدیلی جولائی 2026 میں ’انسٹی ٹیوٹ فار مانیٹرنگ پیس اینڈ کلچرل ٹالرنس ان اسکول ایجوکیشن‘ (IMPACT-se) کی جانب سے سعودی درسی کتب کے جائزے کے دوران سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم نے 2024 سے 2026 کے دوران سعودی نصاب میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ نصاب سے ہٹائے گئے سبق کا عنوان ’صہیونی خطرہ‘ تھا، جو دسویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کی حدیث کی درسی کتاب میں شامل تھا۔

جائزے کے مطابق سبق میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے دریائے نیل سے دریائے فرات تک علاقائی توسیع کا خواہاں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل، صہیونیت، مذہبی اقلیتوں، جہاد اور دیگر حساس موضوعات سے متعلق درسی مواد پر نظرثانی جاری رکھے ہوئے ہے۔

نئے ایڈیشنز میں اسرائیل سے متعلق بعض سیاسی طور پر حساس حوالوں کو حذف یا ان کا لہجہ نرم کیا گیا ہے۔ گیارہویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں ’صہیونی دشمن‘ کی جگہ ’اسرائیلی قبضہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

اسی طرح ایک درسی کتاب سے یہ جملہ بھی ہٹا دیا گیا ہے کہ ’مسلمان بیت المقدس کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔‘

جائزہ رپورٹ کے مطابق سعودی درسی کتب میں یہودیوں اور دیگر مذہبی برادریوں سے متعلق پہلے نشاندہی کی گئی متعدد مثالیں بھی حذف کردی گئی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ماضی میں جن مثالوں کو سامیت دشمنی قرار دیا گیا تھا، وہ حالیہ جائزے میں شامل نصاب سے مکمل طور پر نکال دی گئی ہیں۔

تاہم رپورٹ کے مطابق نصاب میں اسرائیل کے حوالے سے مکمل تبدیلی نہیں آئی۔ بعض کتب میں اب بھی اسرائیل کو غاصب یا قابض ریاست قرار دیا جاتا ہے جبکہ متعدد نقشوں میں اسرائیل بدستور موجود نہیں ہے۔