ایک وقت تھا جب ڈاکٹرز اپنی تعلیم، تجربے اور تشخیصی مہارت پر فخر کرتے تھے، لیبارٹری ٹیسٹ صرف ضرورت پڑنے پر کرائے جاتے اور مریض کو اس زحمت پر معذرت بھی پیش کی جاتی۔ مگر اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے — تشخیص پیچھے اور ٹیسٹ آگے۔ آج اکثر ڈاکٹرز مریض کی علامات سن کر براہِ راست لیبارٹری کی راہ دکھاتے ہیں، جہاں اکثر ان کا اپنا مفاد جڑا ہوتا ہے، یا وہ کسی لیب یا میڈیکل اسٹور سے کمیشن وصول کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ کمیشن صرف ٹیسٹ تک محدود نہیں بلکہ ادویہ ساز ادارے بھی ڈاکٹرز کو نقد، تحائف، غیر ملکی دورے حتیٰ کہ ذاتی ضروریات پوری کر کے اپنا وفادار بناتے ہیں۔ معاملہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات مریضوں کو مہنگی، غیر ضروری ادویات اور ٹیسٹ تجویز کر کے ان کا معاشی استحصال کیا جاتا ہے۔ ادویہ میں 30 سے 50 فیصد تک کمیشن عام بات ہے، جب کہ سرجیکل آلات میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تمام ڈاکٹرز اس کاروباری روش کے پیروکار نہیں۔ بہت سے مخلص، دیانتدار اور بااصول ڈاکٹرز اب بھی موجود ہیں جو طب کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ تاہم، جب کوئی ڈاکٹر کسی خاص لیب یا اسٹور کی تاکید کرے، تو مریض کو سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ صرف علاج کا نہیں، کمیشن کا بھی ہے۔
آخری بات ایک کہانی کی صورت میں — اگر کمائی حرام ہی ہو، تو فرق صرف پیشے کا رہ جاتا ہے، نیت اور ضمیر دونوں سوال میں آ جاتے ہیں۔ اب فیصلہ ڈاکٹرز نے خود کرنا ہے کہ وہ مسیحا رہنا چاہتے ہیں یا کمیشن ایجنٹ بننا۔
کمیشن، تشخیص اور ضمیر: جدید علاج یا تجارتی دھندہ؟








