پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ جو شخص عدالت میں عمران خان جیسی جیل سہولیات مانگ رہا ہے، اگر اُسے وہ سہولیات دے دی جائیں تو وہ خود رو پڑے گا۔
اڈیالہ جیل میں بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان دو سال سے قیدِ تنہائی میں ہیں، جس کمرے میں وہ بند ہیں وہ صرف 8 بائی 10 فٹ کا ہے، نہ وہاں اے سی ہے، نہ اخبار، نہ ٹی وی، نہ ملاقات کی اجازت۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آصف زرداری اور نواز شریف کو جیل میں مکمل سہولیات مل سکتی ہیں تو عمران خان کو کیوں نہیں؟ “آپ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ ایک سابق وزیراعظم اور پارٹی سربراہ کو اپنے وزیراعلیٰ سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟”
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ان پر صرف اس بات پر مقدمہ درج کر دیا گیا کہ انہوں نے عمران خان کا پیغام عوام تک پہنچایا، حالانکہ میڈیا نے اسے نشر کیا۔اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو میں اکیلی نہیں جاؤں گی، ایک پوری ٹیم تیار ہے۔
عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے بھی جیل میں سختیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو 10 ماہ میں صرف ایک بار بیٹوں سے بات کرائی گئی، نہ فیملی ملاقات ہو رہی ہے، نہ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی اجازت ہے۔ خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل جیسے اہم فیصلوں میں بھی ان سے رابطہ روکا جا رہا ہے۔
فیصل ملک کے مطابق عمران خان نے قانونی ٹیم کو عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے اور سیاسی رہنمائی کے لیے سلمان اکرم راجہ کو نامزد کیا ہے۔
جو عمران خان جیسی سہولتیں مانگے، وہ پچھتائے گا، علیمہ خان








