بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملٹی ایئر ٹیرف میں کمی سے کراچی کے صارفین متاثر ہوسکتے ہیں، مونس علوی

ایک بیان میں مونس علوی نے کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف میں نمایاں تبدیلیاں اور کمی کی ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق، جون میں جاری کیا گیا ٹیرف تفصیلی مشاورت، تحقیق اور اعداد و شمار کی جانچ کے بعد منظور کیا گیا تھا، لیکن اسے محض چند ماہ میں تبدیل کر دیا گیا۔
مونس علوی نے مزید کہا کہ کمپنی نئی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آپریشنز جاری رکھنے کے بہترین طریقے تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کے الیکٹرک کی پوری کوشش ہوگی کہ صارفین پر اثرات کم سے کم ہوں، تاہم کسی نہ کسی حد تک اثر ضرور پڑے گا۔
دوسری جانب کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) نے نیپرا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملٹی ایئر ٹیرف میں کمی کے باوجود کراچی کے صارفین کے بجلی کے بلوں میں کمی نہیں ہوگی۔
کاٹی کی توانائی کمیٹی کے کنوینر ریحان جاوید کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو گزشتہ سال صارفین کو دیا گیا منفی ایف سی اے واپس لینا ہوگا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو مالی سال 2023 اور 2024 کے دوران 30 سے 40 ارب روپے اضافی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کا ٹیرف 39.70 روپے سے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث کے الیکٹرک کا سال 2025 کا متوقع 4 ارب روپے منافع اب تقریباً 85 ارب روپے کے خسارے میں بدل جائے گا۔
ریحان جاوید کے مطابق، ڈسکوز کے نقصانات عام طور پر حکومتی سرکلر ڈیٹ کا حصہ بنتے ہیں، جبکہ کے الیکٹرک کا خسارہ براہِ راست سرمایہ کاروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر کمپنی مسلسل نقصان میں رہی تو اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے کام متاثر ہوسکتے ہیں، جس سے شہر اور صنعتوں کو بجلی کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوں گی۔