اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کر دیا ہے کہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے والے ممالک کا فیصلہ اسرائیل خود کرے گا ، کوئی اور نہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، تاہم ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کون سے ممالک اس میں شامل ہوں گے۔ عرب اور دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے امکانات بھی غیر یقینی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی فورس کی ممکنہ ساخت پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے فوجی غزہ پٹی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ ممکنہ شمولیت پر بات چیت کر رہی ہے۔
نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہاکہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی کا خود ذمے دار ہے، اور ہم نے واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی فورس کے معاملے میں فیصلہ اسرائیل ہی کرے گا کہ کون سی غیرملکی افواج قابلِ قبول ہیں اور کون سی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مؤقف امریکا کے لیے بھی قابلِ قبول ہے، اور واشنگٹن کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں اس کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ دو سال سےغزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اب بھی علاقے کے بیشتر داخلی و خارجی راستوں پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔
گزشتہ ہفتے نیتن یاہو نے ترکی کی ممکنہ شمولیت پر اعتراض اٹھایا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فورس میں صرف وہ ممالک شامل ہوں جن پر اسرائیل کو اعتماد ہو۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس حوالے سےاقوام متحدہ کی قرارداد یا بین الاقوامی معاہدے کی تجاویز پر غور کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں قطر سے بات چیت جاری ہے۔
غزہ فورس میں کن ممالک کی فوج شامل ہوگی؟ نیتن یاہو کا دوٹوک اعلان








