ہانگ کانگ(شِنہوا)چین کے صدر شی جن پھنگ نے ’’ ایک ملک، دو نظام‘‘ کے اپنے ویژن کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کی پالیسی ایک عظیم اقدام ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور اس کا بنیادی مقصد چین کی قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کاتحفظ اور ہانگ کانگ اور مکاؤ میں طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہانگ کانگ کی چین میں واپسی کی 25 ویں سالگرہ اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چھٹی مدت کی حکومت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ چینی صدر نے کہاکہ ایک ملک، دو نظام بار بار کی آزمائش میں درست ثابت ہوا ہے،یہ ملک اور چینی قوم اور ہانگ کانگ اور مکاؤ کے بنیادی مفادات کو پورا کرتا ہے، اس طرح کے اچھے نظام کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ ہمارے ملک، ہانگ کانگ اور مکاؤ میں ہمارے ہم وطنوں کے فائدے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کے چیف ایگزیکٹو اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کی حکومت کو اپنے حلف کی مکمل پاسداری کرنا چاہئے اورایک ملک، دو نظام کی پالیسی پرعملدرآمد، بنیادی قانون کے اختیار کو برقرار رکھنا اور خود کو ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کےلئے وقف کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا چاہئے۔صدر شی جن پھنگ نے ہانگ کانگ کی مادر وطن واپسی کی 25 ویں سالگرہ اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے(ایچ کے ایس اےآر) کی چھٹی مدت کی حکومت کی افتتاحی تقریب کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں ہانگ کانگ کے تمام باشندوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہانگ کانگ کو ایک بین الاقوامی مالیاتی، جہاز رانی اور تجارتی مرکز کے طور پر اپنے کردار کو مستحکم کرنے، اس کے آزاد، کھلے اور مستحکم کاروباری ماحول کو برقرار رکھنے، اس کے مشترکہ قانون کے نظام کو برقرار رکھنے اور باقی دنیا کے ساتھ ہموار اور آسان روابط کو بڑھانے میں مکمل حمایت کرتی ہے۔
ادھرایک رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کی 25 برس قبل مادروطن کو واپسی کے بعد سے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے اور چینی مین لینڈ کے درمیان تجارت میں 6 گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق 1997 سے 2021 تک خصوصی انتظامی خطے (ایس اے آر) اور مین لینڈ کے درمیان تجارتی مالیت50.77 ارب امریکی ڈالرز سے6. 1 گنا بڑھ کر 360. 33ارب امریکی ڈالرز ہوگئی، جو اوسطاً8. 5 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے اختتام تک ہانگ کانگ سے مین لینڈ میں کی جانے والی سرمایہ کاری 14 کھرب امریکی ڈالرز سے زائد تھی۔









