بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد جیل کے پہلے قیدی بننے جارہے ہیں؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 2 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جہاں سے ان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً باتیں کی جاتی رہی ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس ضمن میں وفاقی وزرا، پی ٹی آئی رہنما اور صحافی مختلف اوقات میں بیانات بھی دے چکے ہیں، تاہم ابھی تک یہ ’متوقع منتقلی‘ عمل میں نہیں آ سکی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

وفاقی وزیرڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے گزشتہ اکتوبر میں عمران خان کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی جیل منتقلی کا کہا تھا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اسلام آباد کی جیل تیار ہو چکی ہے یا نہیں، اور کیا عمران خان کو وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے؟

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اسلام آباد ماڈل جیل کے قیام کا فیصلہ 2009 میں کیا گیا تھا، تاہم 16 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز ایکنک کی منظوری کے بعد 2016 میں کیا گیا تھا۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق لاگت خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ تقریباً 55 فیصد ہی مکمل ہو سکا ہے۔

جبکہ اب اس کی تخمینے کی لاگت دگنی ہو چکی ہے، تاہم یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا۔

اس منصوبے کی مستقبلِ قریب میں بھی مکمل ہونے کے امکانات کم ہیں، اس لیے عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقلی فی الحال ممکن نظر نہیں آتی۔

اسلام آباد ماڈل جیل سیکٹر ایچ 16 میں تعمیر کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے زیرِ انتظام سی ڈی اے کی ہے۔

2 ہزار قیدیوں کے لیے مختص اس جیل کے لیے 90 ایکڑ رقبہ حاصل کیا گیا تھا۔

منصوبے کے لیے 27 جولائی 2016 کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 ارب 92 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی تھی۔

جس کے بعد 26 جون 2024 کو سینڑل ڈیولپمنٹ ورکینگ پارٹی نے منصوبے کا نیا تخمینہ 7 ارب 39 کروڑ روپے منظور کیا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق مالی سال 25-2024 میں اس منصوبے کے لیے 1 ارب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے ایک ارب 29 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب 18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک اس منصوبے پر مجموعی طور پر 3 ارب 55 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

جبکہ منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مزید 3 ارب 84 کروڑ روپے درکار ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اسلام آباد جیل کے انتظامی بلاک کا 96 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

آر سی سی کمپاؤنڈ اور باؤنڈری وال کا 98 فیصد، مرد قیدیوں کی بیرکوں اور سیکیورٹی پوسٹس کا 82 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح جیل اسپتال، کچن، ڈسپینسری اور زیرِ زمین واٹر ٹینکس کا 78 فیصد، جبکہ انفرا اسٹرکچر بشمول سڑکیں، ڈرینیج وغیرہ کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔