کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن چیئرمین فوکس مینار پاکستان پر توجہ نہ دیں، شہر کے مسائل حل کرنے پر کام کریں۔ میئر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اجتماعِ عام اور نعیم الرحمان کے لاہور جانے کے باوجود کراچی میں جماعت اسلامی کے پوسٹرز لگے ہوئے ہیں، اور انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کو شہر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کراچی کا ماسٹر پلان بھی یاد دلایا، کہا کہ 2003 میں جماعت اسلامی کے دور میں پلان تبدیل ہوا اور سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا، جبکہ 2007 میں اسے دوبارہ تبدیل کیا گیا۔
میئر نے ایم کیو ایم کو شہر کے لیے مستقل قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اختیارات کی کمی پر رونا روتے ہوئے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 10 ارب روپے گلیوں کی مرمت پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور گریکس کالونی میں آر او پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے، جو 5 کلومیٹر دور سے سمندر کا پانی میٹھا کر کے شہریوں کو فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست صرف تنقید کے لیے ہو سکتی ہے یا ترقی کے لیے، اور حکومت کے ناقدین باوجود اختیارات کے کچھ نہیں کر پا رہے۔
میئر نے مزید بتایا کہ 21 دسمبر تک دوسری حب کینال کا کام مکمل کر لیا جائے گا، جس سے ضلع غربی اور کیماڑی کے عوام کو اضافی پانی مل سکے گا، جبکہ پہلا صنعتی پانی کا انفراسٹرکچر 31 دسمبر تک فعال ہوگا۔ پہلے فیز میں 20 آر او پلانٹس گلی محلوں میں لگائے جائیں گے، اور ملیر میں کام شروع ہو چکا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی کے لیے بھی کہا: “اللہ ہی ان کی ہدایت کرے، ورنہ وہ ہدایت سے بالاتر ہیں۔
جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین فوکس مینار پاکستان پر نہ رکھیں، شہر کی بہتری پر توجہ دیں








