بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی اے کا پی ٹی ایم ایل کو اونک سروس فوری بند کرنے کا حکم

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک کی نئی فروخت، ایکٹیویشن، سم/ای سم کا اجرا، سبسکرپشنز، مارکیٹنگ اور تجارتی سرگرمیاں فوری بند دے۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ یہ سروس موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کے فریم ورک کے دائرے میں آتی ہے۔

ایک اہم ریگولیٹری فیصلے میں اتھارٹی نے یوفون کو آپریٹ کرنے والی کمپنی پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اونک سروس کو اس کی موجودہ شکل میں بند کردے۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ مطلوبہ ریگولیٹری اجازت اور قابلِ اطلاق ایم وی این او فریم ورک کی تعمیل کے بغیر یہ سروس جاری نہیں رکھی جاسکتی۔

تاہم موجودہ صارفین کو سروس میں تعطل سے محفوظ رکھنے کے لیے پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو حکم موصول ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کی مہلت دی ہے جو صرف موجودہ اونک صارفین کو پی ٹی ایم ایل پر منتقل کرنے/ٹرانسفر کرنے کے لیے ہوگی۔

یہ فیصلہ سماعت کے بعد سنایا گیا جس کے ذریعے اونک کے اجرا اور آپریشن سے متعلق پی ٹی ایم ایل کی درخواست نمٹا دی گئی ہے۔

پی ٹی اے نے قرار دیا کہ اگرچہ اونک، پی ٹی ایم ایل کا رجسٹرڈ برانڈ ہے اور پی ٹی ایم ایل کے نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور نمبرنگ وسائل استعمال کرتا ہے، تاہم اس کا آپریشنل ڈھانچہ روایتی برانڈ انتظام سے کہیں آگے ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اونک ایک الگ ڈیجیٹل بنیاد پر قائم سروس کے طور پر کام کرتا ہے جس کے لیے خصوصی پیکیجز، علیحدہ سی آر ایم اور بلنگ سسٹمز، مخصوص ڈیجیٹل اور کسٹمر کیئر پلیٹ فارمز موجود ہیں جب کہ ایک علیحدہ ادارہ، ڈی ٹی ایم ایس، صارفین سے براہِ راست رابطے اور اہم تجارتی امور انجام دیتا ہے۔

ریگولیٹر نے نوٹ کیا کہ ڈی ٹی ایم ایس مارکیٹنگ، صارفین کے حصول، کے وائی سی سے متعلق امور، سمز کی لاجسٹکس، فروخت اور کسٹمر سروسز میں شامل ہے جبکہ صارفین سے براہِ راست رابطے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی چلا رہا ہے۔

پی ٹی اے نے بلڈ-آپریٹ سروسز ایگریمنٹ (بی او ایس اے) کے تحت آمدنی میں نمایاں شراکت داری کے انتظام کو بھی اجاگر کیا جس کے مطابق ابتدائی تین سال کے دوران ڈی ٹی ایم ایس کو متعلقہ آمدنی کا 55 فیصد حصہ حاصل ہوگا جبکہ اس کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق اس کا حصہ بتدریج کم ہوتا جائے گا۔

اتھارٹی نے کہا کہ یہ تمام خصوصیات مجموعی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ اونک میں ایم وی این او پالیسی فریم ورک 2025 کے تحت مقرر کردہ بنیادی خصوصیات موجود ہیں، باوجود اس کے کہ اونک برانڈ کی ملکیت پی ٹی ایم ایل کے پاس ہے اور بنیادی لائسنس یافتہ نیٹ ورک بھی اسی کے پاس برقرار ہے۔

نتیجتاً، پی ٹی اے نے قرار دیا کہ اونک ایم وی این او کے ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں آتا ہے اور اسے ریگولیٹری طور پر باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے۔

مزیدپڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

ریگولیٹر نے کہا کہ محض اس بنیاد پر موجودہ انتظام کو مکمل طور پر باقاعدہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ پی ٹی ایم ایل کے پاس برانڈ، نیٹ ورک، اسپیکٹرم، نمبرنگ وسائل اور حتمی ریگولیٹری ذمہ داری برقرار ہے۔

مزید برآں اتھارٹی نے صارفین کے انتظام، سم کے اجرا اور کے وائی سی، بلنگ اور سی آر ایم، صارفین کی معلومات اور کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آرز) تک رسائی، قانونی مداخلت، ڈیٹا کی مقامی سطح پر محفوظ کاری اور سیکیورٹی، سروس کے معیار، ڈیزاسٹر ریکوری، کاروباری تسلسل، موبائل نمبر پورٹیبلٹی اور تھرڈ پارٹی انتظامات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا۔

پی ٹی اے نے بالخصوص مشاہدہ کیا کہ ڈیزاسٹر ریکوری/ہائی اویلیبیلٹی ٹیسٹنگ، آر ٹی او/آر پی او تقاضوں اور ایس ایل اے کی کارکردگی کی آزادانہ تصدیق مکمل طور پر ثابت نہیں کی گئی جبکہ ڈی ٹی ایم ایس سے متعلق بعض تھرڈ پارٹی انتظامات بھی اتھارٹی کے سامنے مکمل طور پر پیش نہیں کیے گئے تھے۔

فیصلے کے تحت پی ٹی ایم ایل کے پاس ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل کے لیے دو آپشنز موجود ہیں۔

پی ٹی ایم ایل یا تو اونک کو واضح طور پر اپنے پروڈکٹ/برانڈ کے طور پر ازسرِنو تشکیل دے سکتی ہے جو پی ٹی ایم ایل کے موجودہ ایم این او لائسنس کے تحت کام کرے، اور ان خصوصیات کو ختم کرے جو اسے ایک آزادانہ طور پر چلنے والی ایم وی این او سروس بناتی ہیں۔

متبادل طور پر، اگر پی ٹی ایم ایل موجودہ ایم وی این او نوعیت کے ڈھانچے کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو متعلقہ کمپنی کو قابلِ اطلاق ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مطلوبہ ایم وی این او لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔

یہ فیصلہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فرسٹ ٹیلی کام اور ایم وی این او مارکیٹ کے لیے ایک اہم ریگولیٹری پیش رفت ہے۔ وفاقی حکومت کے 2025 کے ایم وی این او پالیسی فریم ورک نے 2006 کی سابقہ گائیڈ لائنز کی جگہ لے لی تھیں، جبکہ ابتدائی قومی ایم وی این او لائسنس فیس کم کرکے 140,000 ڈالر کردی گئی تھی، جو 2012 کے ایم وی این او ضوابط کے تحت مقرر کردہ 50 لاکھ ڈالر کی ابتدائی لائسنس فیس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

پی ٹی اے نے مزید پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکم موصول ہونے کے سات کاروباری دنوں کے اندر جامع تعمیلی رپورٹ جمع کرائے، جس میں اونک کی سرگرمیوں کے خاتمے اور سروس بند کرنے کی تصدیق کے ساتھ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

اتھارٹی نے واضح کیا کہ اونک کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے تین ماہ کی مدت کے علاوہ کوئی عبوری مدت یا اجازت نہیں دی گئی اور یہ تین ماہ کی مدت صرف موجودہ صارفین کی منتقلی کے لیے مختص ہے۔ مستقبل میں اونک کی کسی بھی سرگرمی کے لیے پی ٹی اے سے مطلوبہ ریگولیٹری اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

اونک کا معاملہ جون 2023 سے جاری ہے، جب پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے کو ڈیجیٹل پروڈکٹ شروع کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔ ابتدائی تجویز کا ہدف ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے واقف صارفین تھے اور اس میں ایپ پر مبنی صارفین کے لیے مکمل سروس کا طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ ابتدائی فروخت کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔

پی ٹی اے نے بعد ازاں خدشات کا اظہار کیا کہ اونک کی مارکیٹ میں پیشکش صارفین میں ابہام پیدا کرسکتی ہے کیونکہ اسے ایک ایسی آزاد کمپنی کے طور پر پیش کیا جارہا تھا جس کا کسی لائسنس یافتہ سیلولر آپریٹر سے تعلق نہیں، چنانچہ پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی گئی کہ وہ اونک کے ساتھ اپنے تعلق کو واضح طور پر ظاہر کرے۔

ریگولیٹر نے اگست 2023 میں پی ٹی ایم ایل کو حکم دیا تھا کہ مکمل معلومات فراہم کرکے ان کا جائزہ لیے جانے تک اونک کا اجرا نہ کیا جائے۔ پی ٹی ایم ایل نے اس ہدایت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس نے فروری 2026 میں درخواست کو نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے معاملہ وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنے کے لیے پی ٹی اے کو واپس بھیج دیا۔

پی ٹی ایم ایل نے بعد ازاں پی ٹی اے کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اونک محض اس کا اپنا ڈیجیٹل برانڈ ہے، آزاد ٹیلی کام آپریٹر یا ایم وی این او نہیں، جبکہ ڈی ٹی ایم ایس کے ساتھ بی او ایس اے آؤٹ سورسنگ/منیجڈ سروسز کے انتظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ صارفین، نمبرنگ، اسپیکٹرم اور ریگولیٹری ذمہ داری بدستور پی ٹی ایم ایل کے پاس ہے۔

تاہم، پی ٹی اے نے تجارتی اور آپریشنل انتظامات کی اصل نوعیت کی بنیاد پر اس مؤقف کو مسترد کردیا اور اونک کی تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔