بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئی ایم ایف کے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ سمیت اہم مطالبات

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے بجٹ کی تیاری میں ڈیٹا کے مؤثر استعمال، ٹیکس نیٹ کی توسیع، ضمنی گرانٹس کے آڈٹ اور دیگر اصلاحات پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے حالیہ دورے پر آئے آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد نے حکومت سے مذاکرات کے دوران بجٹ سازی میں درست ڈیٹا کے استعمال پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ٹیکس نیٹ بڑھانے، جعلی رسیدوں اور ریفنڈز پر قابو پانے، اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ یا مراعات ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ آئی ایم ایف کی تکنیکی رپورٹ جنوری میں جاری کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن، ٹیکس چوری، حقیقی آمدن چھپانے کا کلچر اور پیچیدہ قوانین ٹیکس وصولی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ موجودہ نظام میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی اصل تعداد سرکاری تخمینوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اور صرف تقریباً 50 لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔ حالیہ 59 لاکھ ٹیکس گوشواروں میں سے 43 فیصد میں صفر آمدن ظاہر کی گئی، جس کے نتیجے میں پچھلے پانچ سال میں ٹیکس کا جی ڈی پی تناسب صرف 10 فیصد تک محدود رہا۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ ٹیکس چوری کی وجہ سے بجٹ خسارہ 3.4 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 3.9 فیصد) تک پہنچ گیا ہے، اور رعایتی ایس آر اوز کے بے تحاشا اجرا نے نظام مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ 2024 میں 168 ایس آر اوز جاری کیے گئے۔ غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ، ایف بی آر میں مؤثر احتساب کی کمی، بدعنوانی اور شفافیت کی کمی نے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔
آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ تمام شعبوں کو دستاویزی بنایا جائے، ٹیکس چھوٹ اور رعایتیں ختم کی جائیں، کاروباری شعبوں کی مکمل رجسٹریشن کی جائے، جعلی رسیدوں کی روک تھام کی جائے، ڈیٹا کی جانچ پڑتال مزید سخت کی جائے اور طویل مدتی ٹیکس پالیسی وضع کی جائے تاکہ ملکی معیشت شفاف اور مستحکم ہو۔