بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ویکسین نہ خریدی گئیں تو صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو جائے گا، مریض فٹ پاتھوں پر آ سکتے ہیں: مصطفیٰ کمال

کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ویکسین کی بروقت خریداری نہ کی گئی تو ملکی صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے اور مریضوں کو فٹ پاتھوں پر علاج کرانا پڑ سکتا ہے۔
کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں کیمپس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر پیداوار نہیں ہو رہی، جبکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی آ رہی ہے، جو مستقبل میں ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بچوں کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے معاشرے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ ان کے مطابق اکثر والدین کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید یہ کسی بیرونی سازش کا حصہ ہو یا پولیو کے قطرے بچوں کی نسل بڑھنے کی صلاحیت کو متاثر کریں، حالانکہ یہ خدشات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد انسان کو مریض بننے سے بچانا ہے اور اس کا آغاز بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو جانا چاہیے، مگر پاکستان میں صحت کو صرف بیماری کے علاج تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازوں کے مطابق 2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال اتنی آبادی کا اضافہ ہو رہا ہے جو نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا میں سالانہ 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ایسے 10 ہزار کیسز سامنے آتے ہیں جن میں 400 حاملہ خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جو صحت کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روزانہ انہیں درجنوں فون کالز موصول ہوتی ہیں جن میں لوگ پرائیویٹ اسپتالوں میں بیڈ دلوانے کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں دنیا میں ایک ڈاکٹر روزانہ 30 سے 35 مریض دیکھتا ہے، وہاں پاکستان میں ایک ڈاکٹر کو اوسطاً 350 مریض دیکھنے پڑتے ہیں، جو نظامِ صحت پر شدید دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔