14 دسمبر کو سڈنی کے بونڈی بیچ میں ایک افسوسناک حملہ پیش آیا، جس میں بھارتی شہری ساجد اکرم اپنے بیٹے نوید اکرم کے ہمراہ یہودیوں کے تہوار کی تقریب پر فائرنگ کر کے 12 افراد کو ہلاک کر گیا۔
ابتدائی رپورٹس اور بعض میڈیا دعووں میں حملہ آوروں کے مسلمان ہونے اور ان کے پاکستانی ہونے کی تردید شدہ خبروں نے الجھن پیدا کی، تاہم آسٹریلوی حکام نے واضح کیا کہ ساجد اکرم بھارتی شہری ہیں۔
وائرل دعویٰ: پاکستانیوں کے ویزوں پر پابندی
سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بونڈی بیچ واقعہ کے بعد تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں مبینہ طور پر کہا جاتا دکھایا گیا کہ “بونڈی بیچ پر فائرنگ کرنے والے پاکستانی ملزم نوید اکرم کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد تمام پاکستانیوں کے ویزوں پر پابندی عائد کر دی گئی”۔
حقیقت کیا ہے؟
یہ دعویٰ غیر حقیقی اور جعلی ہے۔ حقیقت کچھ یوں ہے: آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے حملے کے بعد انتہا پسندی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا، لیکن پاکستانی شہریوں کے ویزوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
ساجد اکرم بھارتی شہری تھے، اور ان کے بیٹے کا تعلق بھی آسٹریلیا سے تھا۔
وائرل ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جس میں ہونٹوں کی حرکت اور آواز اصل نہیں تھی۔
تصاویر اور ویڈیو کلپس کا استعمال پرانے مواد سے کیا گیا، جن کا اصل واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پاکستانی شہریوں کے ویزا درخواستوں یا سروسز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
اضافی تصدیق
آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ والد اور بیٹے کی شہریت کے حوالے سے کوئی پاکستانی تعلق نہیں ہے۔
بھارتی پولیس نے تصدیق کی کہ ساجد اکرم بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہری تھے اور 1998 میں آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے۔
نتیجہ
دستیاب شواہد اور حکومتی بیانات کے مطابق پاکستانی شہریوں کے ویزوں پر پابندی کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد اور جعلی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور خبروں پر بھروسہ نہ کیا جائے، کیونکہ یہ AI اور پرانی تصاویر کا جعلی امتزاج ہیں۔
بونڈی بیچ واقعہ: کیا واقعی آسٹریلیا نے پاکستانی ویزوں پر پابندی لگا دی؟








