بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

7 اکتوبر 2023: حماس حملے کی ناکامی پر نیتن یاہو کی انکوائری کو شفافیت کا الزام

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کو عوامی دباؤ کے بعد 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں حکومتی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا اعلان کرنا پڑا۔ تاہم، نیتن یاہو نے خود اس کمیٹی کی سربراہی سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جسے سیاسی مبصرین اور عوام ایک بہلاوا قرار دے رہے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں اور متاثرہ خاندانوں نے نیتن یاہو کے خود انکوائری سربراہ بننے کو شفاف اور منصفانہ تحقیقات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر گولان نے کہا کہ یہ اقدام قانون کے پردے میں چھپے منظم جرم کے مترادف ہے، جبکہ اوگڈور لیبرمین اور بینی گینٹز نے بھی آزاد ریاستی تحقیقات کا مطالبہ دہرایا۔
متاثرہ خاندانوں کی نمائندہ تنظیم نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دکھ زدہ اہلِ خانہ اور یرغمالیوں کی توہین کر رہی ہے، اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ نیتن یاہو اور ان کے وزرا کو سچ چھپانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق خود اپنی حکومتی ناکامی کی تحقیقات کی سربراہی کرنا شفافیت کے بجائے احتساب سے بچنے کی کوشش ہے۔ طویل عرصے سے اسرائیلی عوام کا مطالبہ تھا کہ ایک خودمختار ریاستی کمیشن قائم کیا جائے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کا کوئی موجودہ یا سابق جج کرے۔
نیتن یاہو نے اس کے برعکس ایک سیاسی طور پر منتخب کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی خود نیتن یاہو کریں گے، جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور قریبی اتحادی امیر اوہانا بھی کلیدی ممبر ہوں گے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی اسرائیلی عوام آزاد تحقیقات کے حامی ہیں، خاص طور پر وہ اہلِ خانہ جو 7 اکتوبر میں ہلاک یا اغوا ہوئے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1500 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اس حملے نے اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوجی حکمت عملی کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا، اور دنیا بھر میں اسرائیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
اس دوران اسرائیلی عوام نے سڑکوں پر نکل کر نیتن یاہو کی فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جبکہ فوج، شِن بیٹ اور دیگر اداروں نے اپنی سنگین سکیورٹی ناکامیوں کا اعتراف کیا، مگر نیتن یاہو نے اب تک ذاتی یا حکومتی ذمہ داری قبول نہیں کی۔