بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تحریکِ انصاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرے، ہم ساتھ ہیں: ایمان مزاری

معروف وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے اور اگر وہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، اسی لیے وہ اس وقت پاکستان کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مزاحمت کا راستہ اپنائے گی یا مفاہمت کا، کیونکہ ان کے بقول ظلم، جبر اور جابرانہ قوتوں کے سامنے مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت ہی کی جاتی ہے۔
ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وہ خود پی ٹی آئی کی ووٹر یا سپورٹر نہیں رہیں، بلکہ ماضی میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران شدید تنقید بھی کرتی رہی ہیں، یہاں تک کہ جب ان کی والدہ شیریں مزاری وزیر تھیں تب بھی وہ پارٹی کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔ تاہم ان کے مطابق آج معاملہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پاکستان کے عوام اور ان کے مینڈیٹ کا ہے، اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ عوامی مینڈیٹ پر کھلے عام ڈاکہ ڈالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ لوگ بھی عمران خان کے حقوق کی بات کر رہے ہیں جو کل تک ان پر تنقید کرتے تھے، کیونکہ اصل مسئلہ عوام کے حقوق کا ہے۔ ایمان مزاری نے کہا کہ وہ خود اور پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے بہت سے لوگ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہونے کو تیار ہیں، جہاں ان کے بقول ان کے ساتھ ناروا اور غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔
ایمان مزاری نے زور دیا کہ ایسے رویوں کی مشترکہ طور پر مذمت ہونی چاہیے، چاہے متاثرہ شخص ماہ رنگ بلوچ ہو، عمران خان ہوں یا علی وزیر۔ ان کے مطابق سب کو ایک آواز ہو کر سڑکوں پر نکلنا چاہیے۔
انہوں نے عدلیہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار ایک غیر قانونی اقدام کے ذریعے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ہٹایا گیا، اور سب جانتے ہیں کہ جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس کیوں بنایا گیا۔ انہوں نے کراچی بار ایسوسی ایشن، کراچی اور لاہور کے وکلا کو خراجِ تحسین پیش کیا جو آج بھی آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ایمان مزاری نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آواز بلند کریں، کیونکہ آج کے حالات میں سوال پوچھنا، تنقید کرنا اور سچ بولنا جرم بنا دیا گیا ہے، اور سچ بولنے پر لوگوں کو گرفتار کر کے پورے ملک میں گھمایا جا رہا ہے۔