ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا حال ہی میں برائیڈل کاؤچر ویک میں ریمپ واک کے باعث خبروں میں آ گئیں، مگر اس بار وجہ تعریف کے بجائے سوشل میڈیا پر ہونے والی سخت تنقید بنی۔ شو کے بعد مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین نے ان کی ریمپ واک پر مایوسی کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے جنت مرزا کی واک کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے طنزیہ تبصرے کیے۔ بعض نے اسے ’’سلیپ واک‘‘ اور ’’ہارر واک‘‘ کہا، جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ شاید اب یہ وضاحت سامنے آئے کہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے درست واک ممکن نہ ہو سکی۔ کچھ تبصروں میں واک کو حد سے زیادہ سست اور غیر فطری بھی کہا گیا۔
متعدد صارفین کا خیال تھا کہ جنت مرزا کو ریمپ کے بجائے ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز تک محدود رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی معروف ڈیزائنر ایچ ایس وائے (HSY) پر بھی سوال اٹھائے گئے کہ فیشن شو میں پروفیشنل ماڈلز کے بجائے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو کیوں ترجیح دی گئی۔
معروف فیشن ڈیزائنر اور ناقد ڈاکٹر اعجاز وارث نے ماضی اور حال کے ریمپ واکس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ریمپ واک میں وقار، اعتماد اور دلکشی نظر آتی تھی، جبکہ اب اکثر واکس آڈیشن جیسا تاثر دیتی ہیں۔
سینئر اداکارہ اور ماڈل عفت عمر نے بھی برائیڈل کاؤچر ویک میں نظر آنے والی غیر پیشہ ورانہ جھلک پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبوسات ماڈلز کے مطابق مکمل فِٹ ہونے چاہئیں اور ریمپ پر لباس کو ہاتھوں سے سنبھال کر چلنا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔
اگرچہ جنت مرزا کی ریمپ واک مختصر تھی، مگر اس پر ہونے والا ردِعمل خاصا طویل اور سخت رہا۔ اس بحث نے ایک بار پھر توجہ دلائی ہے کہ فیشن شوز میں انفلوئنسرز اور پروفیشنل ماڈلز کے کردار اور حدود کہاں متعین ہونی چاہئیں۔
جنت مرزا کی ریمپ واک تنقید کی زد میں، سوشل میڈیا پر ملا ملا جلا ردِعمل








