بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طیبہ گل کا عمران خان پران کی ویڈیوز کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنے کا الزام 

 اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال کے ہراسانی کیس میں متاثرہ خاتون طیبہ گل نے سابق وزیراعظم عمران خان پران کی ویڈیوز کے ذریعے چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنے کا الزام عائدکرتے ہوئے کہاہے کہ پی ایم ہاؤس کے پورٹل پر ثبوت کے طور پر بھیجی گئی ویڈیو ان سے پوچھے بغیرہی آن ایئرکروادی گئی۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے طیبہ گل نے کہاکہ میں نیب میں ایک ہاوسنگ سوسائٹی سے متعلق شکایت لے کرگئی تھی،جاویداقبال دفتر کی بجائے مجھے فلیٹ پر بلاناچاہارہے تھے میں نے انکار کیا تومیرے خلاف کارروائی شروع ہوگئی، مجھے نہیں پتہ میرے اوپرکیس کیسے بن گیااور میں مدعی سے ملزمہ بن گئی،ایک ہی دن میں وارنٹ جاری ہوئے اور اسی دن مجھے گرفتارکیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ ریمانڈکے دوران میرے شوہرکو میری ویڈیوزدکھاکر ذہنی تشددکیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ جب جیل سے باہر آئی تو دوبارہ ہراساں کرنا شروع کردیا گیا ،مختلف شہروں کے تھانوں سے فون کالزآنے لگیں،ہراسانی سے تنگ آکر وزیراعظم کے پورٹل پرشکایت کی تو وزیراعظم ہاؤس بلاکرکہاگیاکہ یہ مدینے کی ریاست ہے ،انصاف کیا جائے گا۔طیبہ گل نے کہاکہ مجھے اور شوہرکو ڈیڑھ ماہ وزیراعظم ہاوس میں رکھا ،موبائل لے لئے گئے،ہمیں کہاگیاکہ سکیورٹی کی خاطرآپ کو یہاں رکھاگیا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں کہاکہ آپ ریاست مدینہ میں ہیں ،انصاف ملے گا ،نتیجہ یہ نکلاکہ سابق وزیراعظم نے ویڈیوز کا فائدہ اٹھاکرچیئرمین نیب کے ذریعے اپوزیشن کو بلیک میل کیا ،اپنے کیسز بندکرائے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے حکام کو دادرسی کے لئے ویڈیوزدیں، مجھے پتہ بھی نہیں چلا وہ میڈیا پر آگئیں،میری مرضی کے بغیر میری ویڈیوزچلادی گئیں،ویڈزآن ایئر کرنے کے بعد پوچھاگیا کہ مزیدویڈیوزبھی ہیں؟وزیراعظم ہاوس کی طرف سے مزیدموادمانگاگیا جو میں نے نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ جاویداقبال نے میری والدہ کو بلاکر کیس بنانے پر معذرت کی ، پی اے سی میں جو بھی الزام لگایا ہے اس کا ثبوت بھی پیش کیاہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم بلیک میلر تھے تو ترجمان نیب ہمارے پاس جھنگ کیوں آئے، ترجمان نیب بارباردباؤڈالتے رہے کہ چیئرمین نیب سے صلح کرلیں۔ ایک اورانٹرویومیں طیبہ گل نے کہاکہ چیئرمین نیب کی ویڈیوپبلک کرنا نہیںچاہتی تھیں بلکہ پی ايم ہاؤس کے پورٹل پر ثبوت کے طور پر بھیجی تھی، پی ایم ہاؤس کے پورٹل پر ثبوت کے طور پر بھیجی گئی ویڈیو ان سے پوچھے بغیرہی آن ایئرکروادی گئی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے پر عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مزیدویڈیوز مانگی تھی۔ متاثرہ خاتون نے کہا کہ ویڈیوزکا فائدہ صرف پی ٹی آئی اور ان کی حکومت کو پہنچا۔متاثرہ خاتون کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم ہائوس میں وہ ویڈیوزبھی دکھائی جس میں سابق چیئرمین نيب نے دھمکی دی کہ اگر کسی آفس میں بيٹھی نظر آئیں تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیوزسامنے آنے کے بعد جاويد اقبال گھبرائے نہیںبلکہ کہا کہ میں چیئرمین نيب ہوں ، طاقت ور ہوں۔