بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کراچی میں 2025 کے دوران ٹریفک اور دیگر حادثات کی تفصیلات، چھیپا فاؤنڈیشن کے اعدادوشمار جاری

چھیپا فاؤنڈیشن نے سال 2025 میں کراچی میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور سانحات میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے تفصیلی اعدادوشمار جاری کیے ہیں۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد حسین کے مطابق ادارے نے 40 سالہ انسانیت دوست خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے شہر کے مختلف حادثات کے دوران فوری امداد فراہم کی۔ شائق اور ہنگامی ریلیف میں چھیپا ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیموں نے مرکزی کردار ادا کیا۔
اعدادوشمار کے مطابق:
ٹریفک حادثات: 857 افراد ہلاک، جن میں 670 مرد، 89 خواتین، 74 بچے اور 24 بچیاں شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 12,188 رہی، جس میں 9,550 مرد، 1,904 خواتین، 563 بچے اور 171 بچیاں شامل ہیں۔
ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعات: ڈکیتی کے دوران 91 شہری ہلاک، 35 زخمی، جبکہ 15 شہری ڈاکووں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ فائرنگ میں 419 افراد جاں بحق ہوئے اور 1,659 زخمی ہوئے۔
تشدد زدہ لاشیں: 23 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ 5 بوری بند لاشیں ملیں۔ چھری کے وار سے 46 افراد ہلاک ہوئے۔
صنفی اور عمر کے لحاظ سے دیگر سانحات:
پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے: 5 ہلاکتیں، 31 زخمی
گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعات: 11 ہلاکتیں، 40 زخمی
چھت سے گرنے یا حادثاتی گرنے: 95 ہلاکتیں
پانی میں ڈوبنا: 85 ہلاکتیں
کرنٹ لگنا: 133 ہلاکتیں
گٹر میں گرنا: 15 ہلاکتیں
کھلے نالوں میں ڈوبنا: 13 ہلاکتیں
خودکشی کے واقعات: 123 افراد ہلاک
چھیپا فاؤنڈیشن نے بتایا کہ طبعی وجوہات سے ہلاک ہونے والے 263 افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ مختلف مقامات سے 35 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ منشیات کے زیادہ استعمال کے باعث 400 افراد کی لاشیں اٹھائی گئیں، جن میں زیادہ تر لاوارث تھیں اور انہیں چھیپا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ اعدادوشمار شہر میں انسانی جانوں کے تحفظ اور فوری امدادی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی اقدامات اختیار کریں تاکہ مستقبل میں حادثات کی شرح کم کی جا سکے۔