بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کا 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان، اصلاحات کا نیا دور

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی نشاندہی کے بعد گورننس میں اصلاحات کے لیے 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پلان وزیراعظم شہباز شریف کے اکنامک گورننس اصلاحات کا حصہ ہے اور اس کا مقصد عوامی اداروں کی شفافیت، کارکردگی اور ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔
اس ایکشن پلان میں 59 ترجیحی اقدامات اور 83 تکمیلی اقدامات شامل ہیں، جنہیں اگلے تین سالوں میں مکمل کیا جانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان نے معاشی چیلنجز کے باوجود استحکام اور ترقی کی جانب قدم بڑھایا ہے اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ملک کی کامیابی یقینی ہوگی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پلان تین بنیادی شعبوں پر مبنی ہے:
1. ترقی پر مبنی مالیاتی اور عوامی سرمایہ کاری کی حکمرانی
2. مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ اور ضابطوں کی آسانی
3. قانونی عمل میں اعتماد پیدا کرنا
عمل درآمد اور نگرانی
وزارت خزانہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔
یو کے ڈیولپمنٹ آفس تکنیکی مدد فراہم کرے گا۔
حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی۔
سرمایہ کاری کے حوالے سے شفافیت بڑھانے کے لیے سالانہ رپورٹس شائع کی جائیں گی، جس میں مراعات اور قومی حکومت کی تخمینہ قیمت شامل ہوگی۔
انسداد بدعنوانی اور قانون سازی
نیشنل اینٹی کرپشن ٹاسک فورس تین ماہ کے اندر قائم ہوگی۔
جون 2027 تک سب سے زیادہ خطرے والی 10 ایجنسیوں کی نشاندہی اور سالانہ رپورٹس شائع کی جائیں گی۔
اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) پر قانون سازی کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
تربیتی پروگراموں کے ذریعے ججز کی صلاحیت بڑھائی جائے گی اور اقتصادی تنازعات پر سالانہ کارکردگی رپورٹ شائع کی جائے گی۔
ٹیکس اور افسران کی کارکردگی
ٹیکس انتظامیہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اگلے سال جون تک ایگزیکٹو کمیٹیاں قائم ہوں گی اور دو سالہ منصوبے تیار کیے جائیں گے تاکہ حکومتی افسران کی صلاحیت میں اضافہ اور ٹیکس کے نفاذ میں وقت کا تعین کیا جا سکے۔
معیشت کی صورتحال
پاکستان کی معیشت میں حالیہ برسوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے:
مالی سال 2024-25 میں جی این پی کی شرح نمو 3.1 فیصد رہی۔
مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 3.71 فیصد اضافہ ہوا۔
مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی 4.5 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں مہنگائی تقریباً 5 فیصد تک محدود رہی، سیلابی اثرات کے باوجود۔
یہ ایکشن پلان حکومت کی جانب سے شفافیت، کارکردگی اور اقتصادی استحکام کی جانب اہم قدم ہے، جس کا مقصد اداروں میں عوام کا اعتماد بڑھانا اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔