امریکی حملوں کے بعد وینزویلا میں آئندہ سیاسی منظرنامے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں امریکی حملے کیے گئے، جن کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انجام پائے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں موجودہ پیشرفت کے بعد بھی مستقبل کا منظرنامہ غیر واضح ہے۔
مبصرین کے مطابق صدر نکولس مادورو کے زیرِ اثر فوج کسی بھی پیشگی سیاسی یا سفارتی مفاہمت کے بغیر اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نہیں نظر آتی۔ اس وقت تک وینزویلا کی فوج نے تازہ صورتحال پر کوئی باقاعدہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو خود کو مغربی حمایت یافتہ ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہیں، مگر مادورو کے سیاسی مخالفین کی بڑی تعداد امریکی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن میں تقسیم نمایاں ہے۔
دوسری جانب، چاویزم تحریک، جس کی قیادت مادورو کے پاس ہے، ملک بھر میں ابھی بھی عوامی حمایت رکھتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سیاسی تصادم شدت اختیار کر گیا تو وینزویلا ایک خانہ جنگی یا تباہ کن مسلح تنازع کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی حملے کے بعد وینزویلا: اگلے اقدامات کے امکانات








