وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ 2022 میں کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر جنگ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید ہوئی اور سفارتی تعلقات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ بلال اظہر کیانی کے مطابق امریکہ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے، جن میں بنگلادیش بھی شامل ہے، اور 2025 پاکستان کی کامیابی کا سال قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے ملک نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ایک شخص نے سائفر کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور آئی ایم ایف کو خطوط بھیجے، تاہم آج موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے جاتے ہوئے بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن گزشتہ سال بجٹ بغیر منی بجٹ کے کامیابی سے منظور ہو گیا۔
وزیر مملکت نے قومی ایئر لائن کی شفاف نجکاری کو بھی اہم کامیابی قرار دیا، اور کہا کہ اب قومی ایئر لائن بین الاقوامی سطح پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کرے گی، اس کے طیاروں کا فلیٹ دگنا کیا جائے گا۔ ساتھ ہی بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا بھی منصوبہ جاری ہے تاکہ ملک میں مزید اقتصادی بہتری لائی جا سکے۔
2022 میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ سے نکل جائے گا، بلال اظہر کیانی








