بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان حکومت کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان: امریکی جریدہ

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں واپسی کے بعد پیدا ہونے والے منفی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پاکستان نے خطے میں استحکام کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا اور سفارتی و انسانی بنیادوں پر طالبان کی حمایت بھی کی، تاہم اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال مزید خراب ہوئی اور ملک کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان میں اب بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہ سرگرم ہیں، جبکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرحد پار حملوں میں سب سے زیادہ ملوث گروہ ٹی ٹی پی ہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت کی شرح 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی بحال کر کے طالبان قیادت سے تعلقات میں تیزی لائی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ ابتدا میں پاکستان نے تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارتکاری کو ترجیح دی اور دوطرفہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر اتفاق بھی ہوا، تاہم طالبان نے اپنے وعدوں کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث پاکستان نے مکالمے کے ساتھ ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ جریدے کے مطابق پاکستان کو ستمبر اور اکتوبر 2025 میں افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا، تاہم اس کے باوجود پاکستان نے سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق ترکی اور قطر اب بھی پاکستان اور طالبان کے درمیان ثالثی کے عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر طالبان حکومت کے اثرات پاکستان کے لیے سیکیورٹی، سفارتی اور علاقائی سطح پر سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔