بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اہرامِ مصر کی تعمیر کا راز بے نقاب ہونے کے قریب، نئی تحقیق نے چونکا دیا

مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسان کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ جدید مشینری کے بغیر اتنے وزنی پتھروں کو بلندی تک پہنچا کر اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر کیسے کی گئی، یہ سوال ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے ہمیشہ ایک معمہ رہا ہے۔
اب اس معمے کو سلجھانے کے لیے ایک نئی اور غیر معمولی سائنسی تحقیق سامنے آئی ہے، جس نے اہرام کی تعمیر کے بارے میں روایتی تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔
معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اہرام کی تعمیر میں لمبی بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں کیا گیا، جیسا کہ طویل عرصے سے سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ تر تعمیراتی عمل ہرم کے اندر ہی موجود ایک پیچیدہ اور ذہین مکینیکل نظام کے ذریعے مکمل کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس اندرونی نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر، چرخی نما آلات اور وزن کو متوازن رکھنے والے طریقے استعمال کیے گئے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو مرحلہ وار اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ پورا نظام اندر ہی بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ صدیوں تک انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔
نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج سے وابستہ ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کے مطابق، ہرم کی عظیم گیلری، اندرونی راہداریوں اور چڑھائی والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان راستوں پر نصب توازنِ وزن پر مبنی نظام اتنی طاقت فراہم کرتا تھا کہ کئی ٹن وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت کے ساتھ اوپر منتقل کیے جا سکتے تھے، حتیٰ کہ ساٹھ ٹن تک کے بلاکس بھی اسی طریقے سے حرکت میں لائے جاتے تھے۔
تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف بھی سامنے آیا کہ ہرم کے اندر موجود ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جسے پہلے حفاظتی مقصد سے منسوب کیا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا ایک اہم حصہ تھا۔ اسی مقام پر رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کر کے پتھروں کو اٹھایا جاتا تھا۔ اس کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے ترتیب نشان اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں ایک عمودی ستون نصب تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد بند کر دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرم کے بعض حصے، جن میں ملکہ کا چیمبر بھی شامل ہے، مرکزی محور سے ہٹ کر بنائے گئے تھے۔ اس کی وجہ جمالیاتی نہیں بلکہ اندرونی مشینری کے لیے جگہ فراہم کرنا تھی۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت بیرونی دیواروں میں ہلکا سا خم رکھا گیا اور بلندی کی طرف جاتے ہوئے پتھروں کا وزن بھی بتدریج کم ہوتا چلا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً بیس برس میں مکمل ہوئی اور اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار روایتی بیرونی ڈھلوانی طریقے سے ممکن ہی نہیں تھی۔
جدید سائنسی ٹیکنالوجی، جیسے میون شعاعوں کے ذریعے کی گئی جانچ، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہرم کے اندر کسی بڑے خفیہ کمرے کے شواہد نہیں ملے، تاہم چند چھوٹی راہداریوں کے آثار اب بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو نہ صرف عظیم ہرم بلکہ قدیم مصر کے دیگر اہراموں کی تعمیر کے حوالے سے بھی ماہرین کو اپنے دیرینہ تصورات پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔
یاد رہے کہ یہ عظیم الشان ہرم فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تقریباً 2560 قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا اور آج بھی ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود گیزا کا سب سے بڑا اور حیرت انگیز ہرم مانا جاتا ہے۔