اسلام آباد (نیوز رپورٹر ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر صوبے کی سلامتی اور قومی استحکام کو چیلنج کیا ہے۔ ان حملوں کا ہدف نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہری، ترقیاتی منصوبے اور ریاستی رِٹ ہے۔ ان واقعات کے پسِ پردہ بھارت، افغانستان اور اسرائیل کے درمیان ایک منظم گٹھ جوڑ کارفرما ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے پراکسی نیٹ ورکس استعمال کر رہا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں، معدنی وسائل کی ترقی اور علاقائی رابطہ منصوبوں میں تیزی آئی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد خوف و ہراس پھیلا کر سرمایہ کاری کو روکنا، عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا اور صوبے کو ترقی کے راستے سے ہٹانا ہے.چیرمین قایمہ کمیٹی براۓ دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانے، سرحد پار نقل و حرکت اور بیرونی مالی و ابلاغی معاونت اس نیٹ ورک کی عملی بنیاد بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس نازک مرحلے پر پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے جذبے سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے بلوچستان کی تمام سیاسی قیادت کا یک زبان ہو کر ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی پر اتفاقِ رائے ہی دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دے سکتا ہے۔ اجتماعی اور مربوط حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی نظم و نسق، سماجی و معاشی ترقی اور مؤثر سفارتی اقدامات شامل ہوں کے ذریعے قوم ان ریاست دشمن عناصر کو شکست دے سکتی ہے۔ اتحاد، عزم اور قانون کی بالادستی ہی پاکستان کی اصل طاقت ہیں، اور انہی کے سہارے دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔
قومی سلامتی پر اتفاقِ رائے ہی دہشتگردی کو شکست دے سکتا ہے، سینیٹر عبدالقادر








