اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات کا جو بھی نتیجہ نکلے عمران خان نہیں مانیں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان 20 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کرکے ہوا میں تیر چلا رہے ہیں، 13 سے 14 نشستوں پر ہماری پوزیشن مستحکم ہے، 6 حلقوں میں مقابلہ ہے، اس میں سے بھی 4 میں ہماری پوزیشن اچھی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضمنی انتخابات کا جو نتیجہ نکلے عمران خان اسے تسلیم نہیں کریں گے، بعد میں یہ کہیں گے کہ چیف الیکشن کمشنر تبدیل کیا جائے۔
عمران خان کی جانب سے بارہا مسٹر ایکس کے نام سے پکارے گئے کردار پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2018 میں یہ بات اس وقت واضح طور پر کہی تھی کہ امیدواروں کو بلاکر کہا جاتا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے بجائے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیں، اگر اب وقت بھی ایسا کوئی کام ہورہا ہے تو عمران خان بتائیں، یہ اتنی جرات پیدا کریں کہ ان کے نام لیں جو ان کے امیدواروں اور رہنماؤں کو فون کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان ماضی میں جو کچھ کرتے رہے ہیں اسی کا الزام دوسروں پر لگارہے ہیں، ان کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔ جب ترجمان پاک فوج کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا کوئی ثبورت ہے تو سامنے لائیں ہم کارروائی کریں گے۔
ملتان میں شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی اور مسلم لیگ (ن) کے نعیم سلمان کے درمیان مقابلے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2018 میں اس حلقے سے نعیم سلمان ہی کامیاب ہوئے تھے، وہاں ان کا کوئی مقابلہ نہیں، شاہ محمود قریشی پارٹی کے وائس چیئرمین ہیں لیکن انہیں اس حلقے سے ایک دن بھی فرصت نہیں ملی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بابر غوری نے وطن واپسی سے پہلے رابطہ کیا تھا اور ایف آئی اے میں مقدمے یا تحقیقات کے حوالے سے بات کی تھی، میں نے انہیں بتایا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا انکوائری نہیں، اس کے 10 روز بعد وہ واپس آئے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ بابر غوری کی گرفتاری پر میں نے سندھ حکومت میں اپنے دوست اور ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری سے بات کی، دونوں طرف سے یہ کہا گیا کہ ہمارے بابر غوری سے کوئی رابطے نہیں۔
ایم کیو ایم سے متعلق ریاستی پالیسی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ لوگوں کے خلاف بڑے سنگین الزام ہیں، اس لئے ان کا آنا تو بہت مشکل ہوگا، کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر وہی الزام ہیں جو یہاں موجود لوگوں پر بھی ہیں۔
بابر غوری کے خلاف بھی کوئی سنگین مقدمہ نہیں، ان کے خلاف بھی اشتعال انگیز تقاریر میں سہولت کاری اور ایسے ہی مقدمے ہیں، انہیں تمام مقدمات پر ضمانت ملی ہے۔ جو لوگ خوف سے بھاگے تھے اور ان کے خلاف سنگین مقدمات نہیں تو انہیں واپس آنا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شیخ رشید اور فرح خان کے خلاف بہت ٹھوس شواہد ہیں، ان کے خلاف ادارے قانون کے مطابق کارروائی کررہے ہیں۔ شیخ رشید نے حکومت سے امداد لے کر جہادی کیمپ کے لیے جگہ لی تھی جس کے بعد اس زمین کو انہوں نے خاندانی زمین قرار دے دی، شیخ رشید نے 67 کروڑ روپے وصول کئے ہیں اور ظاہر 15 سے 17 کروڑ روپے کئے ہیں۔
اپنے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہوگئی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایک پولیس سے رابطہ کیا کہ گاڑی کی چابی بنواکر منشیات سے بھرا تھیلا اندر رکھ دیں اور پھر خود ہی برآمد کرلیں، اس کے انکار پر ڈی جی این ایف اے کو کہا گیا۔ موجودہ ڈی جی این ایف اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔









