بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غیر ملکی جریدے نے پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دے دیا

عرب نیوز میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش اور ابھرتا ہوا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق ملک میں جاری معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث افراطِ زر کم ہو کر تقریباً 5 فیصد تک آ چکا ہے جبکہ شرحِ سود میں کمی کاروباری اعتماد کی بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی واضح علامت ہے۔
رب نیوز کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اب سرپلس میں ہے اور کئی برسوں بعد زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت کو تسلیم کر رہی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
مضمون میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ عمل اور مستحکم ملک قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ اور کم لاگت، رئیل ٹائم ٹرانزیکشن پلیٹ فارمز اب پاکستان میں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
معاشی ماہرین نے عرب نیوز میں شائع ہونے والے اس مضمون کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی حقیقی عکاسی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں، جو مستقبل میں پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر متعارف کروائے گئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پاکستان کو دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کر رہے ہیں۔ پالیسی استحکام اور اصلاحات کے تسلسل نے طویل المدتی سرمایہ کاری کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے 5G ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے پاکستان میں سرمایہ کاری کا اگلا اہم مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی مستحکم معاشی پالیسیوں اور تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کے باعث پاکستان ایک بار پھر عالمی، بالخصوص خلیجی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
عرب نیوز کا یہ مضمون پاکستان کو ایک ایسی معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے جو نہ صرف بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔