وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں زراعت کے شعبے میں متعدد اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ایگریکلچر انٹرنز اب “اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کا حصہ ہوں گے اور ان کا ماہانہ وظیفہ 70 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ان اصلاحات کے تحت پنجاب کو 5 لاکھ ٹن سے زائد آلو کی برآمدی آرڈرز حاصل ہوئے ہیں، جس سے کسانوں کے لیے نئی آمدنی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے روایتی کھیتی باڑی سے جدید زراعت کی جانب بڑے اقدامات کیے ہیں تاکہ کسان خود مختار بن سکیں۔
جدید زرعی منصوبے اور سہولیات
پنجاب میں پہلی بارروف ٹاپ ہائیڈروپونک پراجیکٹ متعارف کرایا گیا، جس میں دو مرلہ چھت پر 280 سے 350 پودے لگائے جا سکیں گے، جس سے سبزیوں کی پیداوار 32 گنا تک بڑھانے کی امید ہے۔
جنوبی پنجاب کے تھل ایریا کے 7 ملین ایکڑ اراضی کو “ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر ان تھل” پروگرام کے تحت قابل کاشت بنایا جائے گا۔
سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز فور کی منظوری دی گئی، جس میں ہائی ہارس پاور ٹریکٹر پر 15 لاکھ روپے سبسڈی، اور کم ہارس پاور ٹریکٹر پر 5 سے 7 لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔
آن فارم رین ہارویسٹنگ” کے لیےگراؤنڈ ری چارج ویل/کنواں منصوبہ متعارف کرایا گیا، جس کے تحت بارش کے پانی کو کنویں میں جمع کیا جائے گا۔ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں ایک ہزار کنویں پر پانچ لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی، جبکہ ایک ہزار “آن فارم رین ہارویسٹنگ” پونڈ پر 70 فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
ملتان، ساہیوال، بہاولپور اور سرگودھا میں “ماڈل ایگریکلچر مال” پر 462 ملین روپے کی ریکارڈ سیل ہوئی، اور 50 کلومیٹر تک ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی دی جائے گی۔
ایگریکلچر انٹرن شپ پروگرام کے تحت 15 لاکھ کاشتکاروں سے فرداً فرداً رابطوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔
محکمہ زراعت پنجاب 50 نئے بلڈوزر خریدے گا۔
اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کے تحت فی ایکڑ 50 ہزار روپے فنانشل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
16.5 ملین ایکڑ پر گندم کی کاشت مکمل ہو چکی ہے اور 22.30 میٹرک ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ یہ اقدامات پنجاب کے کسانوں کی تقدیر بدلیں گے اور زراعت کے شعبے میں جدیدیت اور خود مختاری کو فروغ دیں گے۔
پنجاب میں ایگریکلچر انٹرنز کا ماہانہ وظیفہ 70 ہزار روپے، زراعت میں جدید اقدامات کا آغاز








