امریکہ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس، ایران اور امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات تہران کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ اس سے قبل ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے آغاز کے بعد روس نے ایران کو خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں، جن میں جنگی جہاز اور طیارے بھی شامل ہیں، کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن معلومات کو اپنے دفاعی منصوبوں کا حصہ بنا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ روس کی جانب سے ایران کو انٹیلی جنس فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کی قیادت مکمل طور پر باخبر ہے کہ کون کس سے رابطے میں ہے، اور اگر کوئی ایسا اقدام سامنے آتا ہے جو امریکی مفادات کے خلاف ہو تو اس کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ اب تک امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں جو یہ ظاہر کریں کہ روس ایران کو یہ ہدایت دے رہا ہے کہ وہ مبینہ معلومات کو کس طرح استعمال کرے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی ان رپورٹس کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی اطلاعات کا ایران میں جاری امریکی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس سوال کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دیگر اہم معاملات زیرِ بحث ہیں۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے روس سے کسی فوجی یا انٹیلی جنس مدد کی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان رابطے اور بات چیت جاری ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، خصوصاً یوکرین جنگ کے دوران جب روس کو میزائل اور ڈرونز جیسے ہتھیاروں کی ضرورت رہی۔ دونوں ممالک ماضی سے بھی قریبی سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت کے باعث مغربی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔
امریکہ نے روس کی جانب سے ایران کو انٹیلی جنس دینے کی خبروں کو مسترد کردیا








