بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان کا فوری انتخابات ، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

 اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ضمنی انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ کوجتوانےکی پوری کوشش کی جبکہ سابق وزیراعظم نے سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے فوری صاف اور شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ بھی دوہرایا۔
عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پارٹی کے سینئر قیادت نے شرکت کی، اجلاس کے دوران کور کمیٹی ارکان نے عمران خان کو سندھ میں متحرک ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
اجلاس کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکرادا کرتا ہوں، پنجاب کے ووٹرز،یوتھ،خواتین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ ملک کے لیے بہت ہی خوش آئند وقت ہے، قوم میں شعوراورنظریہ سمجھ آگیا ہے، جس دن ہم اپنا نظریہ سمجھ گئے قوم ایک عظیم قوم بن جائے گی، جس قوم کا کوئی نظریہ نہ ہووہ کبھی قوم نہیں بن سکتی، بیرونی سازش کے تحت امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی۔ قائداعظم نے ہندوؤں کی غلامی سے انکارکیا تھا، ہم کسی اورکی غلامی قبول نہیں کریں گے، قوم میں شعوراوربیداری دیکھی ہے، خوش ہوں اب ہم قوم بننے کی طرف جارہے ہیں، جب ہم قوم بن جائیں گے توقرض جیسے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی بدقسمتی ہےاشرافیہ نے اپنا پیسہ بیرون ملک رکھا ہوا ہے، اشرافیہ نے لندن فلیٹس لیے ہوئے ہیں، بیرون ملک سب کچھ ایسے قوم نہیں بن سکتی، پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد بنا تھا، قائداعظمؒ نے تواپنی بیماری کا بھی پتا نہیں چلنے دیا تھا، جس طرح لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہرنکلے یہ ایک نیا پاکستان ہے۔ ہماری حکومت کے دوران ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق17سال بعد ہماری گروتھ ریٹ بڑھ رہی تھی، ہماری حکومت نے کورونا کے باوجود تمام حکومتوں سے زیادہ روزگاردیا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں پاکستان کی چارفصلوں کی ریکارڈ پیداوارہوئی، ہماری حکومت میں پہلی دفعہ کسانوں کو پورا معاوضہ ملا، ہمارے دورمیں ٹیکسٹائل انڈسٹری بڑھ رہی تھی، ہمارے دورمیں فیصل آباد میں مزدورنہیں مل رہے تھے، ہماری حکومت میں 75 فیصد آئی ٹی کی ایکسپورٹ بڑھی، ہماری حکومت بھی اڑھائی سال آئی ایم ایف پروگرام میں تھی، جب ہم کہتے تھے عالمی سطح پرمہنگائی ہورہی ہے توکہتے تھے مہنگائی مارچ کریں گے، ہم پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست کی طرف لیکر جا رہے تھے، پہلی دفعہ ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10 لاکھ کی ہیلتھ انشورنس دی، احساس پروگرام کوعالمی سطح پرسراہا گیا،ہماری حکومت سود کے بغیرگھربنانے کے لیے قرض دے رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تواس وقت سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی گئی، جب سازش ہورہی تھی تو میں نے اور شوکت ترین نے آگاہ کر دیا تھا، ہم نے کہا تھا حالات خراب ہوئے تو سنبھالے نہیں جائیں گے، مسلم لیگ کی دونوں حکومتوں میں کبھی ایکسپورٹ نہیں بڑھی تھی، انہوں نے آتے ہی نیب ترامیم کر کے 1100 ارب کا معاف کرا لیا، کل اس حوالے سے سپریم کورٹ جا رہا ہوں، یہ اقتدارمیں اپنے کیسزمعاف کرانے آئے تھے۔ اب ہمیں سبق سیکھنا ہوگا، جب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا معیشت مزید نیچے کی طرف جائے گی، مجھے خطرہ ہے حالات مزید خراب نہ ہوجائیں، ایک ہی راستہ ملک میں شفاف الیکشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلومبرگ کے مطابق آج پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جس کا دیوالیہ ہونے جا رہا ہے، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ منفی کر دی ہے، آج واپڈا کی بھی ریٹنگ نیچے گر گئی ہے، سارامعاشی بحران ان کی سازش کی وجہ سے آیا تھا، ملکی زرمبادلہ کے ذخائرآدھے ہو چکے ہیں، روپیہ تقریبا 28 روپے گرچکا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگرضمنی الیکشن کی طرح ہی الیکشن کرانا ہے تو بحران بڑھے گا، ضمنی الیکشن میں ہمیں ہرانے کے لیے ہرحربہ استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا ریاست کی کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی، ہرجگہ سے ہمارے لوگوں کو پولیس سے ڈرایا، دھمکایا گیا، ضمنی الیکشن میں ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جن پولیس افسران نے ان کے جیالے بن کرمدد کی ایک ایک کا نام یاد ہے، مجھے سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہے، سکندر سلطان راجہ میں اہلیت ہی نہیں ہے، 40 لاکھ مردہ افراد کوبھی ووٹرزلسٹ میں ڈالا گیا، اس چیف الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں۔
عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں ہروانے کا ہر حربہ استعمال کیا جس طرح الیکشن کرائےگئےوہ بہت افسوس ناک ہے ہمارے خلاف ہر ہتھکنڈا استعمال کیاگیا چیف الیکشن کمشنرپرسب سےزیادہ افسوس ہےانہوں نےبددیانتی کی ہے الیکشن کمشنر کو پتہ ہی نہیں 40 لاکھ لوگوں کو مردہ قرار دےدیا کسی اورملک میں ایسی غلطی ہوتی توچیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ 8 مرتبہ ہم الیکشن کمیشن کے پاس کیسز لے کر گئےانہیں نہیں مانا گیا عدالت گئے تو 8 مرتبہ عدالت نے الیکشن کمیشن کیخلاف فیصلہ دیا موجودہ الیکشن کمیشن پرہمیں بالکل اعتمادنہیں ہے سب کوپتہ ہےسینیٹ الیکشن میں پیسےکا استعمال ہوتا ہے الیکشن کمیشن کےپاس گئےسینیٹ الیکشن میں پیسہ روکنےکیلئےکچھ نہیں کیا موجودہ الیکشن میں بھی کھلاپیسہ چلا الیکشن کمیشن نےکوئی نوٹس نہیں لیا۔
عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صرف پی ٹی آئی کو روکتا تھا اور ان کی مدد کرتا تھا سندھ میں 15 فیصد لوگوں نے ٹکٹ نہیں لی الیکشن کمیشن نےکبھی پتہ کرایا چیف الیکشن کمشنرنےن لیگ کو جتوانےکی پوری کوشش کی ڈسکہ میں دھاندلی کاالزام لگاتوچیف الیکشن کمشنر نے سارے حلقے کھلوائے ہمیں ہروایا سندھ میں پیپلزپارٹی نے پولیس کا استعمال کیا الیکشن کمیشن خاموش بیٹھا رہا الیکشن کمیشن میں سندھ کا ممبر کیوں نہیں بولا کیونکہ وہ سندھ حکومت کا نوکر ہے۔