لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہاہے کہ حکومت ہار گئی اور نواز شریف کا نظریہ جیت گیا، اب نظریہ ضرورت کو دفن کرنا ہوگا، نوازشریف کا پورے کا پورا سچ قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، ضمنی الیکشن کے نتائج مسلم لیگ ن تسلیم کرتی ہے لیکن حقائق عوام کے سامنے لائیں گے کہ ہم نے سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا ہے،
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاویدلطیف نے کہا کہ ہم نے سیاست قربان کر کے ریاست بچانے کا فیصلہ کیاعدم اعتماد سے قومی حکومت بنائی اس کا ایک ایجنڈا مقصد تھاکہ معیشت کو سہارا دیاجائے کہیں ڈیفالٹ نہ کر جائے لیکن آج جو حالات ہیں وہ بدترین ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اداروں سے غلطیاں ہوئیں اس کا مداوا کرنا ناگزیر ہے اس کا ملبہ نہیں اٹھائیں گے، جس نے اداروں کے لوگوں کے نام لے لے کر باتیں کیں ان کو قبل از وقت ضمانت دی گئی لیکن نوازشریف بات کرتا تو اس پر میڈیا بلیک آئوٹ کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کو پورا کا پورا سچ قوم کے سامنے رکھنا چاہئے اور جب حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے تو آئندہ انتخابات میں مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی۔
انہوں نے ضمنی الیکشن میں شکست کو غلط پالیسیوں کا نتیجہ قراردے دیا اور کہا کہ لوگوں نے ہمیں معاشی استحکام لانے کا مینڈیٹ دیا تھا، عمران حکومت پر پردہ ڈالنے کا نہیں، لوگ ہم سے 3 ماہ کی کارکردگی کا پوچھتے رہے، حکومت میں ہوکر بھی ہم نے لوگوں کے دکھوں کا کیا مداوا کیا؟
انہوں نے کہا کہ جماعتوں کے لوگ کمپرومائز کریں، پسند یا نا پسند کی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں گے تو یہی کچھ ہو گا۔
جاوید لطیف نے عمران خان کو چیلنج دیا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیاں ختم کریں اور الیکشن کااعلان کریں، ہم الیکشن کیلئے تیارہیں، اگر کوئی سوچےکہ آسانی سے نتائج ہضم کر لیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی قربانی دی تاکہ نظام بہتر ہوجائے اور جس شخص نے بیس سال بے پناہ جیلیں ازیتیں کاٹیں ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا سی پیک دیا تو تاحیات نااہل کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ رہے بند کمروں میں ججز اور جرنیل فیصلے کرتے ہیں تو کیا یہ فیصلے نوازشریف اور مریم نوازشریف کے خلاف فیصلے نہیں آئے، جو کہتا رہا کہ پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے آج وہ جیت گیا۔
جاوید لطیف نے کہا کہ سابقہ حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز خط آئیں ہیں اور اگر آئے تھے تو آپ حکومت میں تھے آپ نے کیوں نہیں بتایا اور کیوں کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے؟
انہوں نے کہا کہ آپ بولتے ہیں کہ ہم پچھلی زیادتیوں کو بھلا کر ریاست کے لئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو کسی سے انتقام نہیں لینا یہ اچھی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شکست تسلیم کی لیکن آج حکومت ہار گئی نوازشریف کا نظریہ جیت گیا۔
دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے جاویدلطیف نے کہاکہ ضمنی الیکشن میں شکست پر ہماری کوئی حالت غم نہیں ہے،ہم نے یہ خودکشی خوشی سے کی ہے،اگر ہم سیاست بچاتے تو ریاست نہیں بچتی تھی،ہم نے سیاست قربان کرلی مگر ریاست کے بچانے کی کوشش کی ،اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیاہماری قربانی کو ریاست شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ اس سوال پر کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو قبول نہیں کیا جاویدلطیف نے کہاکہ ہماری سب سے پہلی غلطی یہ تھی ہم نے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر نئے آنے والوں کو ٹکٹ دیئے،جسے ہمارے ووٹرز نے دل سے قبول نہیں کیا یہ ایک حقیقت ہے،دوسری بات یہ ہےکہ مہنگائی کا جو طوفان ہے وہ ہمارے اقتدار کے دو ڈھائی ماہ میں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھاجس کا ہمیں سامنا کرناپڑا اس لحاظ سے ہمارے ووٹرز اور سپورٹرزدفاعی پوزیشن پر تھے۔جاوید لطیف نے کہاکہ ہماری قربانی کو ریاست نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے اور آنے والے وقت میں یہ چیزیں کھلیں گی۔انہوںنے کہاکہ جب ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی ہوئی وت بیس سال بعد اقرار کیاگیاتھاکہ بھٹوکا عدالتی قتل ہواتھا،اسی طرح نوازشریف کو جب ہائی جیکربنایاگیا تھا تو سزادینے کے کئی سال بعد اعتراف کیا گیا کہ نوازشریف سے زیادتی ہوئی اب بھی میں واضح طور پر کہتاہوں کہ ایک وقت آئے گا حقیقت سامنے آئے۔انہوں نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ عمران خان حکومت کا ملبہ ہمیں اپنے سرنہیں لینا چاہیےتھا،اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے اندردورائے تھی مگر ہم نے ریاست کے لئے سیاست قربان کی ،ملک دیوالیہ ہوجاتا تو کون بچاتا؟۔جاویدلطیف نے کہاکہ اس وقت جو اتحادیوں کی شکل میں قومی حکومت ہے اسے لمباکھینچنے کا پہلے بھی کوئی جوازنہیں تھااس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کے پاس تازہ مینڈیٹ نہ ہو تو بڑے فیصلے کرنے کا اخلاقی طور پر کوئی جوازنہیں بنتا،ٹھیک ہے کہ معیشت کے حوالے سے فیصلے کررہے تھے یہ ملک کی ضرورت بھی تھی مگر حقیقت یہی ہے کہ آپ کو نئے انتخابات کی طرف اس وقت بھی جاناچاہیے تھا اور آج بھی جانا چاہیےاب تک یہ بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ضمنی الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہیں لیکن بقول عمران خان اور فوادچودھری بندکمروں میں فیصلے ہوتے ہیں ،ججزاور جرنیل فیصلے کرتے آئے ہیں اور فیصلے ہورہے ہیں یہ حقیقت بھی تسلیم کی جائے کہ نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف جو فیصلے آئے کیا وہ ٹھیک تھے، آج اگربندکمروں میں کوئی فیصلے ہورہے ہیں تو اس معاملے پر عمران خان کو سپورٹ کرناچاہیے ،عمران خان اورفواد چودھری ان فیصلوں کا بھی اقرار کریں جن کے تحت نوازشریف کو سزاہوئی ،پھر فارن فنڈنگ کا فیصلہ آج تک کیوں محفوظ ہے؟اس سوال پر کہ کیا ضمنی الیکشن میں بھی ان فیصلوں کا کوئی عمل دخل ہے یایہ عوام کا فیصلہ تھا؟جاویدلطیف نے کہاکہ ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جاسکتا ہے،یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک چیز کاذکرکریں اوردوسری کو نظراندازکردیں، جلیل شرقپوری کا اچانک استعفیٰ دینا اور پھردوسرے لوگوں کا یہ کہناکہ ہم رابطے میں ہیں یہ سب چیزیں الیکشن پر اثراندازہوئی ہیں۔









