چین کی ایک کمپنی نے دنیا کا تیز ترین انسان نما روبوٹ تیار کیا ہے۔آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹ تیار کیا ہے جسے سپرمین کا نام دیا گیا ہے اور اس کی ویڈیو ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی۔
چین کی یونی ٹری روبوٹیکس نامی کمپنی نے اسے تیار کیا ہے جس کی تیاری 3 ماہ پہلے ہوئی مگر یہ 2 میٹر تک چھلانگ لگا سکتا ہے جبکہ 12.66 میٹرز فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔
یہ موجودہ عہد کے دیگر روبوٹس کے مقابلے میں متاثر کن رفتار ہے۔روبوٹ کی یہ رفتار حیران کن حد تک دنیا کے تیز ترین انسان کا خطاب حاصل کرنے والے جمیکن ایتھلیٹ یوسین بولٹ کی اوسط رفتار سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے 2009 میں 9.58 سیکنڈ میں 100 میٹر دوڑنے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا جو کہ فی سیکنڈ 10.44 میٹر فی سیکنڈ بنتی ہے۔اس روبوٹ کا قد 5 فٹ 7 انچ ہے اور کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ ثابت کرتا ہے کہ یہ انسانوں کی حد کو توڑ سکتا ہے۔
ابھی تو ان ریکارڈز کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی مگر یونی ٹری نے دعویٰ کیا کہ آنے والے مہینوں میں روبوٹ کی کارکردگی میں مزید بہتری کا امکان ہے۔اس روبوٹ کو عوامی طور پر 19 اگست کو پیش کیا جائے گا جب کمپنی کی جانب سے حصص کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:مکران، کوسٹل ہائی وے پر گیس باؤزر، کار میں خوفناک تصادم، 6 افراد جاں بحق
19 سے 23 اگست ورلڈ روبوٹ کانفرنس کے دوران بھی یہ روبوٹ ان ایکشن ہوگا۔یونی ٹری کے روبوٹس نے گزشتہ سال کے مقابلوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 4 گولڈ میڈلز جیتے تھے۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سپرمین روبوٹ اس سال کیا ریکارڈز قائم کرتا ہے۔









